ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حکام میڈیا کے ذریعے توانائی کی منڈیوں اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام ایسی سرگرمیوں کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ میں مزید الجھانے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق توانائی کی منڈیوں کومتاثر کرنے کی ان تمام کوششوں کا اصل بوجھ امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی شہری توانائی کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے اثرات براہ راست محسوس کر رہے ہیں اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے میڈیا کے ذریعے مارکیٹ کے بارے میں مختلف بیانات اور قیاس آرائیاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں دباؤ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔
ان کے بقول اس طرزعمل کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں بلکہ امریکی عوام بھی اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام کی کوششیں خطے میں جاری کشیدگی اورجنگ کے حوالے سے سیاسی دباؤ بڑھانے سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے باعث عام امریکی شہری متاثر ہو رہے ہیں جبکہ منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت برقراررکھنے کی کوششیں بالآخر خود امریکی معیشت اور صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔


