2 اگست 2026کو مظفرآباد کے انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے مدمقابل آنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی اور مختار احمد عباسی آج ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے، لیکن اس بار مقابلہ انتخابی حلقے کا نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کا ہوگا۔
قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں آج وزیراعظم کا انتخاب ہوگا، جہاں بیرسٹر افتخار گیلانی کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے ہوگا۔
وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ارکانِ اسمبلی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ کامیاب امیدوار کے انتخاب کے بعد حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔
اس موقع پر سیاسی جماعتوں کی قیادت اور نومنتخب ارکانِ اسمبلی کی موجودگی بھی متوقع ہے، جبکہ حکومت سازی کے بعد آزاد کشمیر کی نئی کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ بھی شروع ہوگا۔
کاغذات نامزدگی جمع
مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد امیدوار مختار عباسی نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔
شاہ غلام قادر کا افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ
وزیر اعظم کے معاملے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں،اب صدرمسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔یاد رہے اس سے قبل شاہ غلام قادر مسلم لیگ ن کی طرف سے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے امیدوار تھے۔مگرآخری وقت میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کردیا گیا۔
اس حوالے سے نو منتخب ممبر اسمبلی ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی صفوں میں مکمل اتحاد ہے، میاں نواز شریف کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی قیادت پر مسلم لیگ ن میں کبھی دراڑ نہیں پڑی،مسلم لیگ ن میں چھوٹے موٹے گلے شکوے ہو سکتے ہیں، جماعت میں اختلاف نہیں،جب جماعت کی بات آتی ہے تو مسلم لیگ ن متحد ہو جاتی ہے۔مسلم لیگ ن کی قیادت اور جماعت کے فیصلوں پر سب ایک پیج پر ہیں۔
میاں نواز شریف کے فیصلے کو مسلم لیگ ن کے تمام ارکان تسلیم کرتے ہیں،مسلم لیگ ن میں کوئی ایسی دراڑ نہیں جو جماعتی اتحاد کو متاثر کرے،اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے تجربہ کار رہنما ہیں۔ وہ 2011 اور 2016 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 کے انتخابات کے بعد انہیں آزاد کشمیر کابینہ میں وزیر تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
2026 کے حالیہ عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے ایل اے 29 مظفرآباد تھری کی نشست سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، تاہم وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے شکست کھا گئے تھے۔
بعد ازاں مخصوص نشستوں کے انتخابات میں انہیں ٹیکنوکریٹ نشست پر مسلم لیگ (ن) کا امیدوار بنایا گیا۔ 24 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی کو 12 ووٹ ملے۔
یوں عام انتخابات میں شکست کے چند ہفتے بعد افتخار گیلانی دوبارہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے اور اب انہیں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کردیا گیا ہے۔
سردار مختار احمد خان عباسی( ممبر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی)
سردار مختار احمد خان عباسی یکم اکتوبر 1963 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سردار فرید خان عباسی ہے اور ان کا تعلق مظفرآباد سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور 1977 میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور سے سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (میٹرک) کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن پشاور سے 1980 کے سیشن میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے Bachelor of Laws (LLB) کی ڈگری حاصل کی۔
1992 میں سردار مختار احمد خان عباسی کے والد سردار فرید خان عباسی نے کنسٹرکشن کمپنی قائم کی۔ 2000 کے بعد کمپنی نے مختلف بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا اور وقت کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اہم منصوبے مکمل کیے۔ آج کمپنی بلوچستان اور سندھ میں سی پیک (CPEC) سے متعلق منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں بھی سڑکوں سمیت کئی نمایاں بڑے ترقیاتی منصوبوں میں اس کا کردار رہا ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد سردار مختار احمد خان عباسی نے عملی زندگی کے ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔ ان کا سیاسی سفر مختلف مراحل سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔ 2016 میں وہ آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور پانچ سال تک کونسل کے رکن کی حیثیت سے سیاسی کردار ادا کیا۔
2021 کے آزاد کشمیر عام انتخابات میں انہوں نے حلقہ LA-29 مظفرآباد-III سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا۔ اس انتخاب کے بعد بھی انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ پارٹی کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا اور مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے سیاسی معاملات میں نمایاں رہے۔
2022 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران بھی وہ پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے اور پارٹی کی انتخابی و تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
2026 کے آزاد کشمیر عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں ایک بار پھر LA-29 مظفرآباد-III سے امیدوار نامزد کیا۔ اس مرتبہ انہوں نے 20,045 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ ان کے مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی نے 16,507 ووٹ حاصل کیے۔
یوں سردار مختار احمد خان عباسی کا سفر تعلیم، کاروباری سرگرمیوں اور طویل سیاسی جدوجہد پر مشتمل ہے۔ کشمیر کونسل کی رکنیت سے لے کر انتخابی سیاست تک مختلف مراحل طے کرنے کے بعد 2026 میں وہ مظفرآباد کے حلقہ LA-29 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے۔


