تہران: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایران سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسکاٹی! تمہاری ساکھ داؤ پر ہے، کچھ کرو۔‘‘
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ان کے مؤقف کا جواب دیا۔ بیسنٹ نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ ایرانی عوام بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ایرانی حکومت بیرون ملک بھاری رقوم خرچ کر رہی ہے۔
انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے عوام پر رقم خرچ کرے، نہ کہ مسلح اتحادی گروہوں کی حمایت پر۔
قالیباف نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا خود اسرائیل اور اپنے بیرون ملک فوجی اڈوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر امریکا اتنی رقم اپنے عوام پر خرچ کرے تو یہ زیادہ معقول بات ہوگی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا کو ’’ناکام سلطنت‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم ان کے اس جواب میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں سے متعلق اعداد و شمار ان کا سیاسی مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر اس خبر میں تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی دباؤ اور ایران کی معاشی صورتحال
العربیہ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایران کے مالی وسائل کا ایک حصہ خطے میں اس کے اتحادی مسلح گروہوں کی معاونت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ تہران امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کو ایرانی عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الگ بیان میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ ’’مکمل پیمانے کی اقتصادی جنگ‘‘ میں امریکا کو شکست سے دوچار ہوتے دیکھے گا۔
Instead of funneling billions to its terrorist proxy, Israel, and 750 bases, this failing empire could spend that cash on its own people, but nah, that'd make too much sense for this regime.
Scotty, man [?], your credibility is on the line. Do something.https://t.co/zz1x0VWKyQ https://t.co/FQf6k8aova
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) August 27, 2026
ایرانی حکام اور امریکی حکومت کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ نے تہران کا دورہ کرکے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ دوبارہ کھولنے پر بات کی، جبکہ آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راستے اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی ایران اور قطر کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
پاکستان بھی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔ اسی دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران کے دورے میں بھی علاقائی کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل ختم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوئی ہے۔

