اسٹیٹ بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب 58 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئے۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 21 اگست 2026 کو 22 ارب 58 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملکی سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 21 اگست کو مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 9 کروڑ 85 لاکھ ڈالر ہوگئے جو ایک ہفتے کے دوران تقریباً 17 کروڑ ڈالر اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 48 کروڑ 89 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ یوں اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر ملا کر ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب 58 کروڑ 74 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 13 اگست 2026 کو مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب 50 کروڑ 61 لاکھ ڈالر تھے، جن میں مرکزی بینک کے ذخائر 17 ارب 8 کروڑ 19 لاکھ ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 ارب 42 کروڑ 42 لاکھ ڈالر تھے۔
اس طرح ایک ہفتے میں مجموعی ذخائر میں تقریباً 8 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ مرکزی بینک کے ذخائر میں تقریباً 1 کروڑ 66 لاکھ ڈالر اضافہ ہوا، کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی تقریباً 6 کروڑ 47 لاکھ ڈالر بڑھے۔
Total liquid foreign #reserves held by the country stood at US$22.59 billion as of August 21, 2026.
https://t.co/mVwDwVa0gU
#sbpreserves pic.twitter.com/EyzpYlRIWq— SBP (@StateBank_Pak) August 27, 2026
زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت اور درآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے، مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر خاص طور پر ملک کی بیرونی مالی ضروریات، درآمدی ادائیگیوں اور کرنسی مارکیٹ کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں ماہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مجموعی طور پر بلند سطح پر برقرار ہیں تاہم، ذخائر کی پائیدار بہتری کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری، عالمی مالی معاونت اور ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر ہوگا۔

