ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمزکو امریکی علاقہ قرار دینےکے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
President Donald Trump said he plans to declare the Strait of Hormuz a US territory after defeating Iran, though it is unclear if this signals a new policy https://t.co/oaV16dMUFV pic.twitter.com/2TiMxLWye8
— Reuters (@Reuters) August 14, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کو عملاً یہاں سے نکال دیا گیا ہے اور اب انہیں خلیج، بحیرہ عمان یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونےکی اجازت نہیں ہے۔ایسی باتوں پر مذاق کرنا بھی بڑی غلطی ہے، کیونکہ یہ ایران ہے، اس کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ ان کی سابقہ پوزیشن میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن مفاہمتی یادداشت پر طاقت اور وقار کے ساتھ اتفاق کیا،ایران نے سابق ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مضبوط مؤقف کے ساتھ کیا گیا،معاہدے کو ماہرین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دوسری جانب اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ میں فوجی اور سیاسی محاذوں پر کامیابی حاصل کی۔
اپنے نئے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں 9 اہداف مقرر کیے تھے، دونوں کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
امریکا اور اسرائیل کو جنگ میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا،سفارتی محاذ پر ہونے والا معاہدہ ایران کے لیے باعثِ فخر ہے۔
