لاہور میں بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں 2 مختلف حملوں کے دوران 3 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے ملزمان میں سے 2 مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک ہو گئے۔
اس پولیس مقابلے کا مقدمہ بھی پولیس کی مدعیت میں تھانہ صدر مریدکے میں درج کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان لاہور میں فائرنگ کے بعد ایک سرکاری گاڑی لیکر فرار ہو گئے تھے۔ سی سی ڈی ماڈل ٹاؤن سمیت پولیس کی ٹیمیں ملزمان کے تعاقب میں تھیں۔ شیخوپورہ راوی ریان کے قریب دہشت گرد گاڑی چھوڑ کر ایک گھر میں داخل ہو گئے اور گھر والوں کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا لیا۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ان ملزمان نے پولیس ٹیم پر اندھا فائرنگ کی، اور دو طرفہ فائرنگ کے دوران 2 ملزم مارے گئے جبکہ تیسرا فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مارے جانے والے ملزمان کی شناخت باپ بیٹے کے طور پر ہوئی ہے جبکہ تیسرے ملزم کا تعلق مبینہ طور پر کشمیر کے علاقے باغ سے بتایا جارہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ملزم راوی ریان نالے پر جا کر باپ بیٹے سے الگ ہو گیا تھا اور اس کی تلاش جاری ہے۔
ملزمان کی شناخت کے لیے ایک ویڈیو سے مدد ملی جس میں انہیں فائرنگ کے بعد اسلحہ اٹھائے ایک گلی سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
2 پولیس اہلکار بھی گرفتار
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان سے رابطے کے شبہ میں 2 پولیس اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ زیرحراست اے ایس آئی اور کانسٹیبل کی ملزمان کے ساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر موجود ہیں۔
ملزمان کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل کے الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں انسداد دہشت گردی ، قتل، اقدام قتل سمیت 8 دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
مقدمات کے مطابق ملزمان نے لاہور بادامی باغ میں سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو شہید کیا، جبکہ نواں کوٹ میں اہلکار حارث کو شہید اور 3 اہلکاروں کو زخمی کیا۔
پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل، ہیڈ کانسٹیبل اسد، اور اہلکار حارث کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، جنازے میں صوبائی وزیر خزانہ، چیف سیکریٹری و آئی جی پنجاب، کور کمانڈر لاہور اور ڈی جی رینجرز سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔
شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ادا کی گئی جس میں آئی جی پنجاب، اور دیگر پولیس افسران میں شریک ہوئے۔
