بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے نجی مائننگ کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے 7 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اغواء ہونے والے مزدوروں میں سے 4 کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے ۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد کئی گھنٹوں تک مائنز میں موجود رہے اور ایک زمباد گاڑی، ایک فور بائی فور پک اپ، 20 سے زائد سولر پلیٹس، زرنج موٹر سائیکل، بستر، کچن کا سامان، سلنڈر، 2 ہزار 500 لیٹر ڈیزل، ایک ہزار 500 لیٹر پیٹرول سمیت دیگر سامان بھی لے گئے۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے 400 کلو میٹردور جنوب مغرب میں واقع ضلع چاغی کے علاقے ماہیان کور میں نجی مائننگ کمپنی کی مائنز پر نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کیا اور وہاں کام کرنے والے 7 افراد کو ہمراہ لے گئے۔
مسلح افراد نے نہ صرف مائنز کے عملے کو اغوا کیا بلکہ وہاں موجود مشینری کو بھی نقصان پہنچایا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والے گلگت بلتستان کے مزدوروں کی شناخت وجاہت، واجد، شاہد اور صابر کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 3 مقامی مزدوروں میں ضیاء الدین، شاہ سلیم اور سعید محمد شامل ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ جائے وقوعہ پرپہنچی جس کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
اس خبر کے شائع ہونے تک پولیس کسی مزدور کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔
اس سے قبل بھی بلوچستان بالخصوص چاغی میں اس طرح کے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری بلوچ شدت پسند تنظیموں نے قبول کی ہے۔
گزشتہ روز بولان میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جس میں نامعلوم افراد نے 18 انچ قطر کی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی جس کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں گیس کی سپلائی معطل ہو گئی۔
واضح رہے کہ حکومتِ بلوچستان کا ہمیشہ سے مؤقف ہے کہ بلوچستان میں بھارت اور افغاننستان کے پراکسی دہشتگرد گروپس تخریب کاری پھیلانے اور صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
