وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز، صحت، پولیو کے خاتمے، غذائیت، مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد میں کلپنا کوچر اور انیتا زیدی شامل تھیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کو درپیش ترقیاتی چیلنجز کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن کی مسلسل معاونت اور شراکت داری کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام کو اعلیٰ ترین سطح پر سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیٹس فاؤنڈیشن نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے، صحت، غذائیت، مالیاتی شمولیت اور معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت کی گورننس ریفارمز کے ایجنڈے میں ڈیجیٹل ادائیگیاں، غذائی تحفظ، زچہ و نوزائیدہ صحت، غربت کا خاتمہ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت اہم اصلاحاتی ترجیحات شامل ہیں۔
کیش لیس پاکستان کا مقصد نظام میں شفافیت لانا ہے
شہباز شریف نے کہا کہ کیش لیس اکانومی پاکستان حکومت کے تبدیلی کے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔ کیش لیس پاکستان کا مقصد عام شہریوں کی زندگی آسان بنانا، حکومتی نظام میں شفافیت بڑھانا اور سرکاری رقوم کو کسی تاخیر یا ضیاع کے بغیر مستحقین تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور گیٹس فاؤنڈیشن کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی. وفد میں گیٹس فاؤنڈیشن کی نمائندگان کلپنا کوچر اور انیتا زیدی شامل تھیں.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن کی مسلسل معاونت اور شراکت داری کو سراہا.
گفتگو… pic.twitter.com/SIpZJKWTEa
— Prime Minister's Office (@PakPMO) September 10, 2026
وزیراعظم نے زور دیا کہ مستحق خواتین کو اپنی مالی معاونت براہِ راست، محفوظ اور باوقار انداز میں ملنی چاہیے۔ انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر خواتین کی مالیاتی شمولیت اور معاشی خودمختاری کے لیے مزید مرکوز اقدامات پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ملاقات میں پاکستان اور گیٹس فاؤنڈیشن کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پس منظر
پاکستان میں کیش لیس اکانومی کی پالیسی کا بنیادی مقصد معیشت میں نقد رقم کے استعمال کو کم کرکے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت بینکنگ ایپس، موبائل والٹس، کیو آر کوڈ، آن لائن ادائیگیوں اور فوری رقوم کی منتقلی کے نظام کو عام کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں راست (Raast) پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا اہم ستون ہے، اسٹیٹ بینک کے تحت قائم یہ نظام افراد، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان فوری اور نسبتاً کم لاگت ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
حکومت نے جون 2025 میں کیش لیس پاکستان اقدام شروع کیا، جس کے تین بنیادی مقاصد عوامی سہولت میں اضافہ، مالیاتی نظام میں شفافیت اور معیشت کو زیادہ دستاویزی بنانا ہیں، اس مقصد کے لیے تاجروں کو راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
جولائی 2026 تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فعال ڈیجیٹل ادائیگی وصول کرنے والے تاجروں کی تعداد بڑھ کر 20 لاکھ سے زائد ہوگئی جبکہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیے گئے۔
کیش لیس اکانومی کی پالیسی کو حکومت صرف کاروباری لین دین تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ سرکاری ادائیگیوں، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور ترسیلات زر کو بھی زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے مستحق افراد تک رقوم کی براہِ راست اور تیز تر منتقلی، شفافیت میں اضافہ اور مالی بے ضابطگیوں میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم پاکستان میں کیش لیس اکانومی کی جانب مکمل منتقلی کے لیے ڈیجیٹل خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی، سائبر سکیورٹی، صارفین کا اعتماد اور دور دراز علاقوں میں مالیاتی سہولیات کی دستیابی جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ماضی میں کم بینکنگ رسائی، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر اعتماد کی کمی، مختلف نظاموں کے درمیان رابطے کے مسائل اور لین دین کی لاگت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو متاثر کیا۔



