سندھ محکمہ صحت نے کاروباری شخصیت میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ میڈیکو لیگل معائنے کیلئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا۔
محکمہ صحت نے یہ اقدام سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کے حکم اور بعد ازاں جاری محکمانہ ہدایات کی روشنی میں کیا ہے۔
اس سے قبل میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے تشکیل نو کیے گئے میڈیکل بورڈ پراعتراض کے باعث قبر کشائی کا عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا تھا۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری نئے نوٹیفکیشن کے مطابق قبر کشائی کی نگرانی کیلئے 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔
بورڈ کی سربراہی ڈاؤ میڈیکل کالج، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کریں گے، جو پیتھالوجسٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔
بورڈ میں ڈاکٹر فرح وسیم، اسسٹنٹ پروفیسر و قائم مقام انچارج شعبہ فرانزک میڈیسن سندھ میڈیکل کالج، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کو فرانزک ماہر مقرر کیا گیا ہے۔
سی پی ایل سی کے شناخت پروجیکٹ سے فرانزک شناخت کے ماہر امیرحسن خان، ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سر چند، جے پی ایم سی کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر کامران خان اور ڈاکٹر دانیال مرزا بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔ ڈاکٹر دانیال مرزا کیس کی دستاویزات تیار کریں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی پولیس سرجن آفس کے انتظامی انچارج ڈاکٹر محمد یاسین اور پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید بھی بورڈ میں شامل ہیں، جبکہ ڈاکٹر سمیعہ سید کو کنوینر مقرر کیا گیا ہے، بورڈ کو ضرورت پڑنے پر مزید کسی ماہر کو شامل کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
میر رضا کی تدفین طارق روڈ پر رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں ہوئی تھی اور قبر کشائی عدالتی مجسٹریٹ کی موجودگی میں کی جائے گی۔
قبر کشائی کا عمل جمعہ کو اس وقت رک گیا تھا جب میر رضا کے اہلخانہ نے پہلے سے تشکیل نو کیے گئے بورڈ پر اعتراض کرتے ہوئے کارروائی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مجسٹریٹ کے سامنے درخواست جمع کرائی تھی کہ قبر کشائی صرف اسی میڈیکل بورڈ سے کرائی جائے جسے ابتدائی طور پر کیس کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔
قبرستان میں مجسٹریٹ اور میڈیکل بورڈ کے ارکان پہنچ چکے تھے جبکہ پولیس نے سیکیورٹی حصار قائم کر رکھا تھا، تاہم اہلخانہ کے اعتراض کے بعد کارروائی مؤخر ہوگئی۔
میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پہلے پوسٹ مارٹم میں اہم خامیاں موجود ہیں، اس لیے دوبارہ فرانزک معائنہ ضروری ہے۔ استغاثہ نے بھی قبر کشائی کی درخواست کی مخالفت نہیں کی تھی، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے قبر کشائی کی اجازت دی۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم میں 14 اہم خامیوں کی نشاندہی بھی کی تھی، جن میں گن پاؤڈر ریزیڈیو کا تجزیہ نہ ہونا، ایکسرے نہ کیے جانا، کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ نہ ہونا، مناسب فرانزک تصاویر نہ بنانا، ڈی این اے نمونے حاصل نہ کرنا اور گولی کے داخل ہونے و نکلنے کے زخموں سمیت اس کے راستے کی مناسب دستاویز بندی نہ ہونا شامل تھا۔
میر رضا کی قبر کشائی پر تنازع،اہلخانہ نے نیا میڈیکل بورڈ مسترد کردیا
تاہم تحقیقاتی ٹیم نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر سمیعہ سید نے اصل پوسٹ مارٹم خود نہیں کیا تھا اور موت کی حتمی وجہ تمام قانونی و فرانزک کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی طے ہوسکتی ہے۔
میر رضا کی قبرکشائی 8 اگست کو صبح 11 بجے عدالتی نگرانی میں ہوگی، پولیس سرجن کراچی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق تمام میڈیکل بورڈ ممبران کو صبح ساڑھے 10 بجے فیروزآباد تھانے کی حدود میں رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قبرکشائی سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی موجودگی میں کی جائے گی، ایس ایس پی ایسٹ، متعلقہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسر کو بھی کارروائی سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب میررضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ہماری درخواست قبول کرلی، ہمارا مطالبہ تھا کہ پہلے تشکیل دیئے گئے بورڈ کے ذریعے ہی قبرکشائی کی جائے۔
