پاکستان اور آسٹریلیا میں تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کینبرا میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ آسٹریلوی وفد کی سربراہی فرسٹ اسسٹنٹ سیکریٹری سارہ اسٹوری نے کی۔
🔈 PR No. 1️⃣9️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan and Australia Hold Senior Officials’ Talks and Joint Trade Committee Meeting
🔗⬇️ pic.twitter.com/y2n0thoFY7
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
اجلاس میں دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سطحی روابط، سیاسی تعاون، اقتصادی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، دفاع، سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، سرحد پار جرائم کی روک تھام اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے آسٹریلوی وفد کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے جنوبی ایشیا کی صورتحال، بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی موجودہ صورتِ حال اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی بریفنگ دی۔
دریں اثنا، کینبرا میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی کا دسواں اجلاس بھی منعقد ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت جواد پال خواجہ نے کی، جبکہ آسٹریلوی وفد کی سربراہی سارہ اسٹوری نے کی۔
اجلاس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، زراعت، لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات سمیت تجارتی امور، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، عالمی تجارتی رجحانات اور ان کے دوطرفہ تجارت پر اثرات کا بھی جائزہ لیا۔
نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو ترجیح دی جائے،وزیراعظم کی ہدایت
دفتر خارجہ کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم (WTO) سمیت کثیرالجہتی تجارتی نظام کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے گئے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
