امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی جارحانہ کارروائی پر سنگین نتائج سے خبردار کر دیا۔
العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نشانہ نہ بنانے کی تحریری یقین دہانی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کا مثبت ردعمل نہ آیا تو امریکا فوجی کارروائی مزید بڑھا سکتا ہے۔
العربیہ کے مطابق امریکا نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکا ایران مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے سوئٹزر لینڈ میں متوقع ہے ، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے۔ ایران کے جوہری تنصیبات تک رسائی نہ دینے پر امریکا کے پاس عسکری آپشنز موجود ہیں، مطلوبہ جوہری نتائج حاصل نہ ہوئے تو ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔
امریکی حکام نے بتایا کہ اس ہفتے حملے اس وقت دوبارہ شروع ہوئے جب “ایرانی سخت گیر عناصر کے ایک گروہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔
ایک ہزار میزائل ایران کی جانب نشانہ باندھے تیار ، میرے قتل کی کوشش کے نتائج سنگین ہونگے ، ٹرمپ
قبل ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی آمیز اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہزار میزائل ایران کی جانب نشانہ باندھے تیار ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے مجھے قتل یا اقدامِ قتل کی دھمکی پر عمل کیا تو سنگین نتائج ہوں گے۔ ایران نے دھمکی پر عمل کرنے کی کوشش کی تو مزید ہزاروں میزائل داغے جائیں گے۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ پر ہیں، ایران کئی برس سے انہیں مردہ دیکھنا چاہتا ہے، انہیں کچھ ہوا تو ایران پر اتنی بمباری کی جائے جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو۔
