ایران کے میڈیا کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطے میں موجودہ کشیدگی پر گفتگو کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور خلیجی خطے میں حالیہ امریکی و ایرانی فوجی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری اسلام آباد مفاہمتی معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔
ارنا کے مطابق عراقچی نے حالیہ امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واشنگٹن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا اور اس کی پالیسیوں سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا، جبکہ امریکا کو مزید کسی بھی “مہم جوئی” سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بعد گزشتہ ماہ ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا، جس کے تحت 60 روزہ فریم ورک میں مستقل تصفیے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
تاہم حالیہ امریکی حملوں اور ایران کے جوابی اقدامات کے بعد اس جنگ بندی اور عبوری معاہدے کو دوبارہ خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ اس کی تازہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے جنگ بندی کے فریم ورک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان نے اس تمام عمل کے دوران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے فروغ کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
