پشاور(انور زیب)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی پالیسی واضح کر دی، کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری کردیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، کرپشن کے تمام راستے بند کیے جائیں،کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں، چاہے وہ کسی کے بھی چہیتے ہوں۔
محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا، عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن کا کوئی فائدہ نہیں،تمام وزراء ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے کریں، عوام میں جائیں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔
عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لوں گا، بروقت ازالہ نہ ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی،وزراء ضلعی دوروں کا باقاعدہ شیڈول مرتب کریں، ہر محکمہ اپنا کمپلینٹ سیل قائم کرکے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کرے۔
عمران خان کے وژن کے عکاس تمام سگنیچر منصوبوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حکومت کی ترجیحات واضح ہیں، تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وفاق خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے، سہیل آفریدی
تمام محکمے رواں مالی سال میں ڈی ایف سی اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں، نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کریں،وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کسی معاملے پر رابطہ کیا جائے تو 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ چاہیے۔
تمام وزراء، مشیران اور محکموں کے انتظامی سیکرٹریز باہمی رابطہ مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں،تمام محکمے اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی بنائیں اور عوام کو حکومتی اصلاحات اور منصوبوں سے مؤثر انداز میں آگاہ کریں۔
تین ماہ بعد دوبارہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ ہوگا۔
