لندن: برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ملنے والے متعدد غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اعزاز ان کے دوروں سے چند روز قبل ہی متعارف کرائے گئے۔ اور مودی ان کے پہلے یا واحد وصول کنندہ ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیشلز کا ایک اعلیٰ اعزاز مودی کی آمد سے صرف تین روز قبل قائم کیا گیا؎۔ جبکہ اس کے ابتدائی سرٹیفکیٹ میں املا کی غلطیاں بھی سامنے آئیں، جس کے بعد سیشلز کی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ غلط دستاویز محض ورکنگ ڈرافٹ تھی اور بعد میں درست سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔
رپورٹ میں اسرائیل، فلپ کوٹلر، ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے اعزازات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی کئی ایسے اعزازات کے پہلے یا واحد وصول کنندہ ہیں۔
بھارتی اپوزیشن کانگریس نے ان اعزازات کو سیاسی تشہیر قرار دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بی جے پی کا مؤقف ہے کہ یہ اعزازات مودی کی عالمی قیادت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا اعتراف ہیں۔
کانگریس نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو کوئی بھی ایوارڈ دیں، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔
دی گارڈین کے مطابق نریندر مودی کو یہ اعزاز ان کی ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں دیا گیا۔ اور نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں میں اعزازات ملنا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ مودی کو اسرائیل کے دورے سے قبل بنائے گئے خصوصی میڈل کا بھی پہلا اعزاز دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کا میڈل بھی مودی کے دورے سے چند روز قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا۔ اور مودی اب تک اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس میڈل کے واحد وصول کنندہ ہیں۔
دی گارڈین نے 2019 کے فلپ کوٹلر پریزیڈنشل ایوارڈ کا بھی حوالہ دے دیا، جس کے پہلے وصول کنندہ مودی تھے۔ فلپ کوٹلر ایوارڈ ہر سال کسی قومی رہنما کو دیا جانا تھا مگر مودی کے بعد کسی کو نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کے بعد حالات بدل چکے ، امریکا کو تجارت کے معاملے میں موجودہ حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا ، باقر قالیباف
دی گارڈین کے مطابق ان اعزازات نے بھارت میں شخصیت پر مبنی سیاست، سفارتی کامیابیوں اور سیاسی امیج بلڈنگ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
