امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کے اعلان کو عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، اس لیے حکومت کو جنگ سے قبل کی عالمی مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ازسرنو تعین کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معمولی کمی سے عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملے گا، مہنگائی کی چکی میں پسنے والے شہریوں کو خاطر خواہ ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی اصل وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں، ناقص معاشی پالیسیاں اور نااہلی ہے۔ حکومت اپنی مالی بدانتظامی کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل کر رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر غریب اور متوسط طبقے سے “بھتہ ٹیکس” وصول کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت پیٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کرے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے مطابق عوام کو مکمل ریلیف فراہم کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرے گی۔ عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر عوام دوست فیصلے کرے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لائے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔
