سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے دستخط شدہ وکالت نامے فراہم نہ کیے جانے سے متعلق بیان کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنا جواب ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرا دیا۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم ڈویژن بینچ کے روبرو مؤقف اختیار کیا تھا کہ وکالت نامے دستخط کروا کر فراہم نہیں کیے گئے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت درخواستوں پر آرڈر جاری
سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر نے وکالت ناموں پر دستخط سے متعلق عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جبکہ عدالتی حکم کے مطابق 16 جون کو دستخط مکمل ہونے کے بعد وکالت نامے تیار تھے۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ سلمان صفدر کو 16 جون کو وکالت ناموں کی تیاری سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم ان کی جانب سے دستاویزات وصول نہیں کی گئیں۔ اگلے روز بھی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دوبارہ اطلاع دی گئی جس کے واٹس ایپ اسکرین شاٹس بھی جواب کے ساتھ منسلک کیے گئے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے جان بوجھ کر 18 جون کی سماعت سے قبل وکالت نامے حاصل نہیں کیے۔
یہ جواب 190 ملین پاؤنڈ کیس میں وکالت ناموں پر دستخط کروا کر فراہم کرنے سے متعلق معاملے میں عدالت میں جمع کرایا گیا۔
