سویڈن کی ایک عدالت نے 61 سالہ شخص کو اپنی بیوی کو 120 سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کے جرم میں 4 سال 5 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔
مشرقی سویڈن کے شہر ہرنوسانڈ میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ کو دھمکیوں، نگرانی اور ذہنی دباؤ کے ذریعے قابو میں رکھا۔ اسے اقدامِ زیادتی، سنگین جسم فروشی کروانے، تشدد اور غیر قانونی دھمکیوں سمیت متعدد الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2022 میں اپنی بیوی کو مختلف افراد کے ساتھ پیسے کے عوض جنسی تعلقات پر مجبور کرنا شروع کیا، جو ملک بھر سے ان کے دور دراز فارم ہاؤس پر آتے تھے۔ یہ سلسلہ اکتوبر 2025 میں اس وقت رکا جب متاثرہ خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ ملزم نے خاتون کو قابو میں رکھنے کے لیے اسے منشیات کا عادی بنایا، گھر میں لگے کیمروں کے ذریعے نگرانی کی اور سنگین نوعیت کی دھمکیاں دیں، جن میں قتل اور جلانے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔
سویڈن کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق خاتون نے گھر میں موجود کیمروں کے ایک ایسے مقام کا فائدہ اٹھا کر فرار حاصل کیا جہاں نگرانی نہیں تھی، اور بعد ازاں پولیس کو اطلاع دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے خاتون کو نہ صرف خود پر جنسی افعال کرنے پر مجبور کیا بلکہ انہیں آن لائن نشر کرنے، مزید خریدار تلاش کرنے اور دیگر افراد کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ عدالت کے مطابق یہ سب کچھ مسلسل دباؤ اور تضحیک آمیز رویے کے ذریعے کیا گیا۔
اس کیس میں 120 سے زائد افراد کی نشاندہی کی گئی، تاہم 29 کے خلاف مقدمہ چلایا گیا، جن میں سے 28 کو جنسی خدمات خریدنے کا مجرم قرار دیا گیا۔ دو افراد کو قید جبکہ دیگر کو کم سزائیں یا نگرانی میں رکھا گیا۔
عدالت نے ملزم کو متاثرہ خاتون کو 200,000 کرونر بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
