پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر ضبط و تحمل اختیار کرنے اور جنگ بندی معاہدوں کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ترجمان نے آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت حل طلب تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے اور پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا وعدہ کیا گیا ہے اور پاکستان آٹھ دہائیوں سے جاری کشمیر تنازع کے حل کا خواہاں ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق محسن نقوی نے اپنے دورۂ ایران کے دوران اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان صومالی قیادت اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اسحاق ڈار نے بھی اپنے صومالی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے، جبکہ صومالی وزیر خارجہ نے مغوی پاکستانیوں کی بحفاظت رہائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025 وزیرِ اعظم کو پیش؛ اہم نکات بھی سامنے آ گئے
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی شہری تقریباً 50 روز سے صومالی قزاقوں کی قید میں ہیں اور حکومت جہاز کے مالک کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تمام عملے کی سلامتی اور بہتر حالاتِ زندگی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مزید برآں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
