واشنگٹن: امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ لہسن مچھروں کی افزائش روکنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ کی ایک نجی یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لہسن نہ صرف روایتی طور پر مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے بلکہ اس کے اثرات سائنسی طور پر بھی ثابت ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق لہسن میں موجود ایک مرکب “ڈائی الائل ڈسلفائیڈ” حشرات کے تولیدی رویے کو متاثر کرتا ہے اور ان کی افزائش نسل کو روک سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے 43 مختلف پھلوں اور سبزیوں کا تجزیہ کیا اور مکھیوں کو ماڈل کے طور پر استعمال کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کسی بھی خوراک نے واضح طور پر افزائش کو بڑھایا نہیں، لیکن لہسن نے مکمل طور پر ان کے ملاپ اور انڈے دینے کے عمل کو روک دیا۔
مزید تجربات میں یہ بھی سامنے آیا کہ لہسن کی خوشبو سے زیادہ اس کا ذائقہ حشرات کے رویئے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ اثر ایک مخصوص ریسپٹر “TrpA1” کو متحرک کرتا ہے جو نقصان دہ ذائقوں پر فوری ردعمل دیتا ہے اور حشرات میں کھانے اور افزائش کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہی اثر مچھروں کی مختلف اقسام اور دیگر نقصان دہ حشرات پر بھی دیکھا گیا ہے۔ جن میں ڈینگی، زرد بخار اور زکا وائرس پھیلانے والے مچھر بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کھانے کے بعد صرف 10 منٹ کی واک صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند قرار
ماہرین کے مطابق لہسن ایک سستا اور عالمی سطح پر دستیاب قدرتی حل ہو سکتا ہے۔ جو کیڑوں اور مچھروں کے کنٹرول میں مدد دے سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر جان کارلسن نے کہا کہ اس تصور کا ذکر تاریخی طور پر 1897 کے ناول “ڈریکولا” میں بھی کیا گیا تھا۔
