حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے ٹول ٹیکس میں ہونے والا سہ ماہی اضافہ معطل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق 5 اپریل سے نافذ ہونے والا اضافہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں شہریوں پر مزید بوجھ ڈالنا ممکن نہیں، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور ایسے میں مزید مالی دباؤ بڑھانا مناسب نہیں تھا۔
عبدالعلیم خان کے مطابق مشکل حالات میں قوم کو یکجا ہو کر صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا، اور حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد عوام پر ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا تھا، کیونکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ملک بھر میں ٹول ٹیکس کی نئی شرحیں جاری کر دی تھیں، جن کا اطلاق 5 اپریل سے ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق قومی شاہراہوں پر موٹر کار کا ٹول 100 روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ کوہاٹ ٹنل پر کار کا ٹول بڑھا کر 250 روپے کر دیا گیا تھا۔
مختلف موٹرویز پر بھی نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ اسلام آباد سے پشاور جانے والی ایم ون موٹروے پر کار کا ٹول 700 روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ لاہور سے عبدالحکیم تک ایم تھری پر یہ فیس 800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دی گئی تھی۔
اسی طرح پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور ملتان تک ایم فور موٹروے پر کار کا ٹول 1050 روپے سے بڑھا کر 1300 روپے، جبکہ ملتان سے سکھر جانے والی ایم فائیو پر 1200 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کر دیا گیا تھا۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شدید لہر، عام آدمی کیسے زندہ رہے گا؟ سعد رفیق
ڈی آئی خان سے ہکلہ تک ایم 14 موٹروے پر کار کا ٹول 650 روپے سے بڑھا کر 800 روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ حسن ابدال، حویلیاں اور مانسہرہ کے درمیان ای 35 پر کار کا ٹول 300 روپے سے بڑھا کر 350 روپے کر دیا گیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق ایم 1، ایم 3، ایم 4، ایم 5، ایم 14 اور ای 35 موٹرویز پر بڑی گاڑیوں کے ٹول ٹیکس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد بعض روٹس پر آرٹیکیولیٹڈ ٹرک کا ٹول 7000 روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ٹول ٹیکس میں یہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو مزید بڑھائے کی وجہ بنتا، جس کے اثرات بالآخر مہنگائی کی صورت میں عوام تک منتقل ہوتے۔
