الاسکا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی پہلی براہِ راست ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب دینے سے گریزکیا۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ بریفنگ کا آغازمہمان پیوٹن نے کیا جسے بعض مبصرین نے ایک مضبوط سفارتی اشارہ قراردیا، دونوں صدورنے ملاقات کو “مثبت” اور “تعمیری” قراردیا اورکہا کہ چند معاہدے طے پا چکے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا
سابق امریکی مشیرِقومی سلامتی جان بولٹن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ٹرمپ ہارے نہیں لیکن پیوٹن واضح طورپرجیت گئے، روسی صدرکا رویہ خود اعتماد سے بھرپورتھا انہوں نے سفارتی برتری حاصل کی۔
سی این این کے مطابق پیوٹن نے روس کے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا جبکہ امریکی صدرنے باربار ” اچھی گفتگو” کا ذکرکیا لیکن کسی ٹھوس نتیجے یا معاہدے پرروشنی نہیں ڈالی۔
ملاقات سے پہلے دونوں صدورکے درمیان کئی بارمسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا، روسی خصوصی ایلچی کے مطابق بات چیت غیرمعمولی طورپراچھی رہی لیکن کسی بڑی پیش رفت کا فی الحال کوئی اشارہ نہیں ملا۔
