موسم سرما کی آمد کے باعث خشک میوہ جات کی خرید و فروخت اور قیمتوں میں اضافہ


موسم سرما کی آمد کے باعث فیصل آباد سمیت ڈویژن کے دیگر اضلاع جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور صوبہ بھر کے تمام شہروں میں خشک میوہ جات کی خرید و فروخت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

ڈرائی فروٹ شاپس مالکان شہریوں سے من مانے دام وصول کررہے ہیں جس پر شہریوں نے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے حکام سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں نے ایک سروے کے دوران سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایاکہ فیصل آباد اور نواحی اضلاع میں مونگ پھلی 450روپے سے 650روپے فی کلو، چلغوزہ6ہزار روپے سے 7ہزار روپے فی کلو،بادام 19سو روپے سے 25سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

کاجو 3ہزار روپے سے4ہزار روپے فی کلو، کاغذی اخروٹ 800روپے سے 1200 روپے فی کلو، پستہ 3ہزار روپے سے 35سو روپے فی کلو،کشمش 700روپے سے ایک ہزار روپے فی کلو اور ریوڑی 600روپے سے 800روپے فی کلو گرام فروخت کی جا رہی ہے۔

چاول، آٹا،دالیں 10 سے70 روپے کلو تک سستی ہو گئیں

انہوں نے بتایا کہ کسی دکان پر کوئی نرخ نامے آویزاں نہیں اور زیادہ تر پٹھان ڈرائی فروٹس کا کاروبار کر رہے ہیں جنہوں نے منہ مانگے نرخ وصول کرنا شروع کر رکھے ہیں۔

دوسری جانب ڈرائی فروٹس مرچنٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایاکہ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ کی طلب تقریباً9لاکھ 50ہزار ٹن سالانہ ہے جبکہ پاکستان سے 10ہزار ٹن خشک میوہ جات برآمد کئے جاتے ہیں جن سے سالانہ 100 ملین ڈالر کا زر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ خشک میوہ جات کی عالمی مارکیٹ کے سالانہ کاروبار کا حجم 35ارب ڈالر ہے۔انہوں نے بتایاکہ صرف ضلع سوات میں خشک میوہ جات کی پیداوار 73265ٹن ہے مگر جدید سہولیات اور پراسیسنگ یونٹس کی عدم دستیابی و کمی کے باعث ہر سال تقریباً 34ہزار ٹن پھل اور خشک میوہ جات خراب ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مناسب سہولیات فراہم کرے اور افغانستان و ایران سے خشک میوہ جات کی سمگلنگ روک دی جائے تو ملکی خشک میوہ جات کی پیداوار میں نہ صرف اضافہ بلکہ یہ خشک میوہ جات شہریوں کو سستے داموں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں