مفت آٹا سکیم،نیب انکوائری میں تکنیکی اور انتظامی غلطیوں کا انکشاف

flour

مفت آٹا سکیم میں 20 ارب کی مبینہ کرپشن، نیب انکوائری تیز


لاہور(شاکر اعوان سے ) پنجاب مفت آٹا سکیم میں مبینہ 20 ارب کرپشن کی انکوائری کے سلسلے میں نیب نے فلور ملز، ڈی سی،انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ خوراک سے ریکارڈ حاصل کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو لاہور مختلف اداروں سے موصول ریکارڈ کے ذریعے مفت آٹا سکیم میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرے گا۔

ملک میں افراط زر کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیادوں پرکمی ریکارڈ

نیب نے فلورملز کو جاری کی جانے والی گندم، آٹے کے تھیلوں، مفت آٹا کے تھیلوں کی تعداد اور تقسیم کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

مفت آٹا سکیم کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل نے نیب کو فراہم کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب انکوائری میں مفت آٹا سکیم میں تکنیکی اور انتظامی غلطیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور فلور ملز کے درمیان ڈیٹا ری کنسائل نہ ہونے کے سبب پچاس لاکھ سے زائد آٹے کے تھیلے لاپتہ ہیں۔

ملک میں خام تیل کی پیداوار بڑھ گئی

صرف چار کروڑ تیس لاکھ ساٹھ ہزار تھیلوں کا ڈیٹا کنفرم ہوا ہے، درست اعدادوشمار دستیاب نہ ہونے سے نیب کو تحقیقیات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نیب نے فلورملز کو جاری کی جانے والی گندم، آٹے کے تھیلوں کا ریکارڈ حاصل کر لیا، نیب نے مفت آٹا حاصل کرنے والے افراد کی رینڈم ویری فیکیشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی ٹی بی کے ڈیٹا کے مطابق مفت آٹا لینے والے افراد کا انتخاب کر کے ان کو ایس ایم ایس ارسال بھیجے جائیں گے۔

ایس ایم ایس میں مفت آٹا لینے والے فرد سے تصدیق کی جائے گی کہ اس نے آٹے کے تین تھیلے وصول کئے ہیں یا نہیں۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں