جی بی اسمبلی انتخابات فوج کی مدد کے بغیر کرائیں گے، نگران وزیراعلیٰ


گلگت: نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 15 نومبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، شفاف الیکشن کو یقینی بنایا جائے گا۔

نگراں وزیراعلیٰ میر افضل نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں فوج کی مدد نہیں لی جائے گی، الیکشن میں صرف پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور رینجرز کو تعینات کریں گے اور ثابت کریں گے کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز الیکشن کرانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کیا جائے گا۔

جمعہ کو گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر افضل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان انتخابات بغیر فوج کے کرا کے ملک میں مثال قائم کریں گے، نگران حکومت غیر جانبدار ہے۔ حساس حلقے میں فوج کی تعیناتی حالات کے مطابق عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسمبلی الیکشن تک وزیر اعظم سمیت تمام حکومتی عہدیداروں کے دورے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے کہا کہ قانونی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی حکومتی عہدیدار گلگت بلتستان نہیں آ سکتا اور نہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے۔

راجہ شہباز  نے انتخابات کو ہر قیمت پر شفاف اور منصفانہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں گلگت بلتستان اسکاؤٹس، پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مدد حاصل کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:  گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو حالات کے مطابق انتہائی حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتخابات کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات 2020 کے صاف، شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے انعقاد کرنے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان روز اول سے ہی پرعزم ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ انتخابات 15 نومبر کو ہی ہونگے،جس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کیلئے تمام پارٹیز سے مشاورت ہوئی ہے جو جلد جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کیلئے رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 745,361 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 405,350 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 339,992 ہے.

چیف الیکشن کمشنر نے کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے طبی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے بہترین اقدامات کیئے جائیں گے تاکہ پرامن اور خوشگوار طریقے سے الیکشن کا انعقاد ہو.

انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے مطمئن ہیں ۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی جانب سے دیے گئے تجاویز و آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،اس طرح دیگر پارٹیز کے سربراہان کے بھی اچھی تجاویز ملی ہیں، ہم تمام تر تیاریوں کے ساتھ صاف شفاف انتخابات کا مرحلہ خوش اسلوبی سے انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دن رات بہترین انتخابات کے انعقاد کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے 3 دفعہ آل پارٹیز کانرنس کا انعقاد ہوا ہو۔ تمام شرکاء اے پی سی نے خصوصی طور پر ہمارے اس اقدام کو خوب سراہا بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن صاف، شفاف اور پرامن ہونگے، جس کے لیے تمام مبصرین کو دعوت ہے کہ وہ آئیں اور الیکشن کا جائزہ لیں۔۔

دوسری جانب گلگت بلتستان میں 15 نومبر کو شیڈول عام انتخابات کیلئے 24 حلقوں میں تقریبا 554 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔ جی بی الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع گلگت کی تین نشستوں کیلئے 86 امیدوار، نگر کی دو نشستوں کے لیے 63، ہنزہ کی ایک نشست کے لیے 31، اسکردو کی چار نشستوں کے لیے 67، خرمنگ کی ایک نشست کے لیے 11، شگر کی ایک نشست کے لیے 5، استور کی دو نشستوں کے لیے 66، دیامر کی 4 نشستوں کے لیے 67، غذر کی 3 نشستوں کے لیے 84 اور گھانچھے کی تین نشستوں کے لیے 47 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔


متعلقہ خبریں