پاک پتن اراضی کیس: نواز شریف سے کیا ممکنہ سوالات کیے جائیں گے؟

نواز شریف کی صحت کے متعلق میڈیکل رپورٹس حکومت پنجاب کو بھیج دی گئیں

لاہور: پاکپتن دربار اراضی کیس کے معاملے پر انسدادِ بدعنوانی حکام کو سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی۔

ذرائع کے مطابق انسدادِ بدعنوانی ساہیوال کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم 30 جولائی کو کوٹ لکھپت جیل جائے گی۔

تین رکنی ٹحقیقاتی ٹیم اسسٹنٹ ڈائریکٹر غضنفر طفیل، راشد مقبول اور انسپکٹر زاہد خان پر مشتمل ہوگی۔

یاد رہے اس کیس سے متعلق محکمہ انسدادِ بدعنوانی ساہیوال کے حکام نے 25 جولائی کو سپرنٹنڈنٹ جیل سے تحریری اجازت طلب کی تھی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف سے تحقیقات کے لئے انسدادِ بدعنوانی ٹیم نے سوالنامے کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے ممکنہ سوالات سامنے آ گئے ہیں۔

نواز شریف سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پاک پتن دربار اراضی کیوں غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی، زمین اکٹھی الاٹ کی گئی، یا علیحدہ علیحدہ؟

ممکنہ طور پر یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ 2015 کی تفتیشی رپورٹ میں اس وقت کے وزیراعلی نواز شریف کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، 2016 میں دوسری تفتیشی رپورٹ سے آپ کا نام کیوں نکالا گیا؟

تفتیشی ٹیم پاکپتن اراضی کے حوالے سے یہ سوال بھی پوچھ سکتی ہے کہ یہ اراضی سجادہ نشین کو دیکھ بھال کیلئے دی گئی تھی یا فروخت کی گئی۔

یاد رہے 2015 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاکپتن دربار اراضی پر دکانوں کی تعمیر کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیراعلی پاکپتن کی 14 ہزار 398 ایکڑ اراضی  الاٹمنٹ کرانے کا الزام  ہے۔

 


متعلقہ خبریں