ساہیوال واقعہ: انصاف کے تقاضے پورے کریں گے، وزیر قانون پنجاب



لاہور: وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے گزشتہ روز ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے وئے کہا کہ کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا مؤقف تسلیم کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس کے بعد لاہور میں پنجاب کے دیگر وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیس میں کسی کو بچایا نہیں جائے گا۔

راجہ بشارت نے کہا کہ ذیشان کے تعلقات داعش کے ساتھ تھے اور اُس کی گاڑی بھی دہشت گردوں کے زیر استعمال رہی۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد ذیشان کے گھر پر بارودی مواد کے ساتھ موجود تھے۔

وزیر قانون نے کہا کہ یہ آپریشن انٹیلی جنس پر مبنی تھا، ذیشان کے ساتھی کل شب گوجرانوالہ میں مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے دو کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے،  مالی امداد جان کا مداوا تو نہیں لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی، بچوں کی کفالت ریاست اٹھائے گی۔

راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا کہ جاں بحق خلیل کے خاندان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس سے قبل واقعے کے خلاف 16 سی ٹی ڈی اہلکاروں کےخلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے چار افراد کے جاں بحق ہونے سے متعلق تفتیش شروع کر دی۔

جے آئی ٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے ساتھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی انکوائری میں جے آئی ٹی زیر حراست اہلکاروں کے بیان سے مطمئن نہیں ہوئی کیوں کہ ان میں تضاد ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر سے بھی واقعے کے بارے پوچھا گیا۔

ساہیوال واقعہ

گزشتہ روز پنجاب کے ضلع ساہیوال میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر آپریشن کیا اور ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی کو روکا، دہشت گردوں نے گاڑی روکنے کے اشارے پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔

ترجمان کے مطابق چاروں افراد ساتھی دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مبینہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، جاں بحق ہونے والوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔


متعلقہ خبریں