حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں، اسحاق ڈار


لندن: سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو سنبھالنے میں غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، روپیہ کی قدر میں کمی سے ملک پر ساڑھے تین ہزار ارب کا قرضہ چڑھ گیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن میں میڈیا سے گفتگوکر تے ہوئے کیا۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں ایک روپیہ کی کمی سے 95 ارب روپیہ کا نقصان ہوتا ہے، روپیہ کی قدر میں کمی نے قرضوں میں اضافہ کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بغیر تیاری کے آنے والی حکومت کسی بھی روڈ میپ کے بغیر کام کررہی ہے، حکومت کی توجہ معیشت کی بجائے سیاسی انتقام پر ہے، پاکستان نے کینیڈا اور اٹلی کی معیشت کو پیچھے چھوڑ کر جی 20 میں شامل ہونا تھا، بیرون ممالک جاکر ملک میں کرپشن کے حوالے دے غیر ضروری بیان بازی بند ہونی چائیے۔

انہوں نے کہا کہ میرا لندن یا دنیا بھر میں کوئی پراپرٹی یا بنک اکاونٹ نہیں، حکومت 90 کی دہائی والی سیاست کر رہی ہے، ڈیمز کیلئے بجٹ میں 101 ارب روپیہ مختص کیا، چندوں سے خیراتی ادارے چلتے ہیں ملک نہیں، ہمیں معاشی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ نواز شریف کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ہارلے اسٹریٹ کلینک کو شریف فیملی کی ملکیت قرار دینے والے آج شرمندہ ہیں، کمر کی شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، ڈاکٹر نے سرجری تجویز کی ہے۔


متعلقہ خبریں