دلائل دینگے تو دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کا وکیل سے مکالمہ
تین ججز پر اٹھائے گئے اعتراضات کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ، تفصیلی فیصلہ جاری
نیب ترامیم میں ایسا تو کچھ برا تھا کہ جس نے اس عدالت کے دروازے کھولے
توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں گے، وکیل لطیف کھوسہ
پولیس تفتیش میں کمزوریاں ہیں جس کا ملزمان کو فائدہ ملتا ہے۔
نئے انتخابات کا تو ہمیں بھی بے صبری سے انتظار ہے، وکیل بابر اعوان
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
جانتے ہیں کہ ملک اور اس عدالت میں مشکل وقت چل رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں ہم صرف قانونی پہلو کے تحت فیصلے کرتے ہیں
ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور بھارتی قانون میں بھی یہی ہے
حکومت تو دروازوں پر احتجاج کر رہی تھی، کیا احتجاج کا مطلب انصاف کے معاملے میں رکاوٹ ڈالنا تھا؟
اگر چیف جسٹس موجود نہ ہو تو پھر قائمقام چیف جسٹس کام کرتا ہے۔
حکومت کی نہیں اللہ کی رضا کیلئے بیٹھے ہیں
ججز کے درمیان ملاقات 3 گھنٹے سے زائد جاری رہی
درخواست میں کی گئی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن عدالت کو سمجھ آ گئی ہے





