امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اسکولوں کے لیے نئی پالیسی متعارف کراتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تعلیمی ادارے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو وہ گوگل سرچ انجن تک بھی رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے این بی سی نیوز کے مطابق گوگل نے اعلان کیا کہ اب اسکولوں کے منتظمین کے لیے طلبہ کے اکاؤنٹس پر اے آئی ٹولز خودکار طور پر فعال نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے اسکول انتظامیہ کی واضح اجازت کے بعد ہی طلبہ جیمنائی چیٹ بوٹ، جیمنائی نوٹ بک، گوگل کلاس روم میں اے آئی سہولیات اور گوگل سرچ استعمال کرسکیں گے۔
گوگل کے نائب صدر اور شعبہ تعلیم کے جنرل منیجر کرس فلپس نے اپنے بلاگ میں کہا کہ کمپنی سمجھتی ہے کہ اسکولوں کو اپنے تعلیمی ماحول میں اے آئی کے استعمال سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور انتظامیہ کو اس حوالے سے ضروری کنٹرول فراہم کیے جانے چاہییں۔
گوگل کی پالیسی پر اساتذہ اور ماہرین کی تنقید
گوگل کو تعلیمی اداروں میں اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال پر اساتذہ، بچوں کی نشوونما کے ماہرین اور والدین کی جانب سے پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔ رواں سال اگست میں کمپنی نے گوگل کلاس روم استعمال کرنے والے کئی اسکولوں کے طلبہ کے لیے جیمنائی چیٹ بوٹ فعال کردیا تھا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
اس سے قبل گوگل نے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے ہی جیمنائی فعال کرنے کی اجازت دی تھی۔
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سابق چیئرپرسن لینا خان نے گوگل کے نئے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنے سرچ انجن کی بالادستی کو استعمال کرکے اسکولوں کو اے آئی اپنانے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کسی ضروری سروس پر غیر منظم اجارہ داری رکھنے والی کمپنی کو کنٹرول حاصل ہونے کے کیا خطرات ہوسکتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم اور ذہنی نشوونما پر خدشات
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فیئرپلے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوش گولن نے کہا کہ گوگل کی جانب سے اسکولوں پر اپنی اے آئی مصنوعات کے استعمال کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی الٹا اثر دکھا سکتی ہے۔
ان کے مطابق کمپنی کا مقصد صرف بچوں کی تعلیم میں مدد دینا نہیں بلکہ انہیں طویل عرصے تک اپنی مصنوعات کا صارف بنانا بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے طلبہ کو سوالات کے فوری جوابات تو مل جاتے ہیں، تاہم اس سے نقل اور بغیر سوچے سمجھے تیار شدہ جوابات استعمال کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ بچوں کی دماغی نشوونما اور تنقیدی سوچ پر اس ٹیکنالوجی کے اثرات کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔
امریکا کے بڑے تعلیمی اداروں میں شامل نیویارک اور لاس اینجلس کے اسکول ڈسٹرکٹس پہلے ہی ابتدائی اور مڈل اسکولوں میں جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال پر عارضی پابندیاں عائد کرچکے ہیں، تاکہ ان ٹولز کی حفاظت اور تعلیمی اثرات کا جائزہ لے کر مناسب پالیسیاں بنائی جاسکیں۔
جوش گولن نے اسکولوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف اے آئی ٹولز ہی نہیں بلکہ گوگل کی دیگر سہولیات کے متبادل بھی تلاش کریں اور طلبہ کو ایسے سرچ ذرائع فراہم کریں جو ان کی آن لائن پرائیویسی کا بہتر تحفظ کرسکیں۔


