بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں دھماکے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
دھماکے کی نوعیت اور وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔
بلوچستان میں رواں سال کے دوران پولیس اہلکاروں اور تنصیبات کو مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ دو دن قبل پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا گیا تھا۔
صوبے بھر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی لہر
جنوری کے اواخر اور فروری کے اوائل میں صوبے بھر میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی لہر سامنے آئی۔ کوئٹہ میں عسکریت پسندوں نے سریاب روڈ پر پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ نوشکی میں پولیس اسٹیشن اور پولیس لائنز سمیت سرکاری تنصیبات پر حملے کیے گئے۔
فروری میں ضلع کچھی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر موسیٰ خان مستوئی کو کمبٹی پل کے قریب فائرنگ کرکے شہید کیا گیا، مارچ میں کوئٹہ کے ایگل اسکواڈ کے دو اہلکاروں کو ایسٹرن بائی پاس کے علاقے میں گھات لگا کر شہید کیا گیا، اس کے علاوہ مسلح افراد نے جھل مگسی میں راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا۔
پشتون آباد، ڈھاڈر اور نوشکی کے پولیس اسٹیشنوں پر حملے
اپریل میں مسلح افراد نے کوئٹہ میں پشتون آباد پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، جبکہ اسی ماہ کے اواخر میں ڈھاڈر اور نوشکی کے تھانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
انسدادِ پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں کے نشانے پر رہے۔ اپریل میں ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر تعینات ایک کانسٹیبل جبکہ ستمبر میں نوشکی میں خواتین پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا۔
خضدار میں اپریل کے دوران سرچ آپریشن کے وقت پولیس ٹیم پر فائرنگ سے ایک خاتون کانسٹیبل اور ایک ہیڈ کانسٹیبل جبکہ مئی میں تربت میں ایک اور خاتون پولیس کانسٹیبل کو شہید کیا گیا۔
سال کا سب سے ہلاکت خیز حملہ
سال کا سب سے ہلاکت خیز حملہ جولائی میں زیارت کے علاقے منگی ڈیم میں پولیس چوکی پر کیا گیا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
اگست اور ستمبر میں بھی پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خاران، پشین اور بھاگ میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔ ستمبر میں خضدار میں حملے کے بعد ایک پولیس اہلکار کو اغوا کیا گیا، جسے بعد ازاں قتل کردیا گیا، جبکہ اکتوبر میں مسلح افراد نے بوسٹن میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔
17 اکتوبر کو نصیرآباد میں دو پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا جبکہ قلات میں پولیس کے 20 زیرِ تربیت اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا، جنہیں بعد ازاں بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔



