پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے جنہوں نے دروازے توڑے،وہاں بچیاں بھی موجود تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کی سماعت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے،جو کچھ ہورہا ہے ہم نے عدالت کے سامنے یہ تمام باتیں رکھی ہیں ۔
عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے، وہاں بچیاں تھیں، انہوں نے دروازے توڑے۔
اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے، سلمان اکرم راجہ کی لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کے بعد گفتگو.#FreeAleemaKhan pic.twitter.com/IFXdYFjzHG— PTI (@PTIofficial) September 28, 2026
سماعت کا احوال
قبل ازیں علیمہ خانم کو جیل میں ادویات، کپڑوں کی فراہمی ،فیملی اور وکلاء تک رسائی کےلیے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس عبہر گل نے علیمہ خانم کے بیٹے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے مطابق ڈی سی لاہور نے علیمہ خانم کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا،انہیں جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ علیمہ خانم کو جیل میں ادویات، کپڑوں کی فراہمی ،فیملی اور وکلاء تک رسائی کا حکم دے ۔عدالت نے سپریٹنڈنٹ جیل سے آج دوپہر دو بجے رپورٹ طلب کر لی ۔
علیمہ خان کو کب اور کیوں گرفتار کیا گیا؟
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو احتجاج اور دیگر واقعات سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ 5 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں علیمہ خان، ان کی بہن عظمیٰ خان اور پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 6 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی مگر علیمہ خان کو 20 ستمبر 2026 کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو گھر کے باہر سے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا جبکہ ان کی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی ہے۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ انہیں لٹن روڈ پولیس نے حراست میں لے لیا۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور نے تھری ایم پی او کے تحت علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما محمد امیر کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کئے۔

ڈی سی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے، پولیس رپورٹس کے مطابق دونوں افراد سے امن و امان میں خلل کا خدشہ ہے دونوں افراد کو 30 روز کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا۔
دیگر دو بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی گرفتاری
علیمہ خان کے بعد اگلے ہی دن بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دیگر دو بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی گرفتار کیا گیا۔اہلخانہ کے مطابق عظمیٰ اور نورین خان کو رات گئے بچوں سمیت گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے بعد بچوں اور دیگر اہلخانہ کو چھوڑ دیا گیا۔
تھری ایم پی او آرڈر کے تحت گرفتاری کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے عظمیٰ اور نورین خان کا نظربندی آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ اور نورین خان کو 30 روز کیلئے جیل بھجوایا جائے۔ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق عظمیٰ اور نورین خان کو نقص امن کے خطرے کے پیش نظر جیل بھجوایا گیا۔

