بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-2 نے 2024 کی جولائی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبید القادر سمیت 7 افراد کو سزائے موت سنا دی۔
تین رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-2 نے عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبید القادر اور دیگر 6 ملزمان کو سزائے موت سنائی۔ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس نذرالاسلام چوہدری نے فیصلہ سنایا۔ ٹریبونل کے دیگر ارکان میں جسٹس محمد منظورالباسط اور جسٹس نور محمد شہریار کبیر شامل تھے۔
سزائے موت پانے والے دیگر ملزمان میں عوامی لیگ کے سابق ریاستی وزیر اطلاعات محمد علی عرفات، عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری اے ایف ایم بہاالدین نسیم، جوبو لیگ کے چیئرمین شیخ فضل شمس پراش، جوبو لیگ کے جنرل سیکریٹری معین الحق نکھل، چھاترا لیگ کے صدر صدام حسین اور تنظیم کے جنرل سیکریٹری شیخ ولی عاصف عنان شامل ہیں۔
ٹریبونل نے عبید القادر، بہاالدین نسیم، محمد علی عرفات، شیخ فضل شمس پراش اور معین الحق نکھل کے نصف اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ضبط کیے گئے اثاثے فروخت کیے جائیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم جولائی تحریک میں مرنے والوں کے اہل خانہ اور زخمی ہونے والے افراد کو بطور معاوضہ دی جائے۔ ٹریبونل کے مطابق یہ معاوضہ جولائی فاؤنڈیشن یا کسی دیگر قانونی ادارے کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔
استغاثہ کے مطابق یکم جولائی 2024 سے شروع ہونے والی کوٹہ اصلاحات کی تحریک کو پرتشدد طریقے سے دبانے کے لیے عبید القادر نے عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری اور کابینہ کے وزیر کی حیثیت سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ عوامی لیگ، جوبو لیگ اور چھاترا لیگ کے مسلح کارکنوں پر کمانڈ اور کنٹرول استعمال کیا۔
استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان کی معلومات اور شمولیت کے ساتھ شہری آبادی کے خلاف بڑے پیمانے پر، منظم اور ہدف بنا کر حملے کیے گئے جن میں 1400 سے زیادہ مظاہرین کی موت ہوئی اور 25 ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
استغاثہ کے مطابق بہاالدین نسیم نے عوامی لیگ کے ردعمل کو منظم کرنے اور اسے ممکن بنانے میں مدد کی جبکہ محمد علی عرفات نے میڈیا کو کنٹرول کرنے اور ہلاکتوں و تشدد سے متعلق رپورٹس کو دبانے میں کردار ادا کیا۔
استغاثہ نے شیخ فضل شمس پراش اور معین الحق نکھل پر جوبو لیگ کے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام عائد کیا۔ استغاثہ کے مطابق معین الحق نکھل نے خود مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔
چھاترا لیگ کے رہنماؤں صدام حسین اور شیخ ولی عاصف عنان پر مسلح کارکنوں کو جمع کرنے اور حملوں میں رابطہ کاری کا الزام عائد کیا گیا۔
مقدمے میں کب کیا ہوا؟
مقدمے کی تحقیقات 18 جون 2025 کو شروع کی گئی تھیں۔ تحقیقاتی ادارے نے 7 دسمبر کو اپنی رپورٹ استغاثہ کو جمع کرائی۔ٹریبونل نے 18 دسمبر کو 7 الزامات کا نوٹس لیا، جبکہ 22 جنوری 2026 کو ملزمان کے خلاف 7 الزامات عائد کیے گئے۔
مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل 17 فروری کو شروع ہوا جس کے دوران استغاثہ کے 29 گواہوں نے عدالت میں بیانات ریکارڈ کرائے۔
استغاثہ اور دفاع نے اپنے حتمی دلائل 4 سے 17 اگست تک 9 عدالتی ایام میں مکمل کیے جس کے بعد ٹریبونل نے آج ساتوں ملزمان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزائے موت دے دی۔
شیخ حسینہ واجد کا وطن واپسی کا اعلان
بنگلا دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر کے قریب بھارت سے اپنے وطن واپس جائیں گی حالانکہ “وہ واپسی پر مجھے گرفتار کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتے ہیں۔”
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا تھا کہ گرفتاری اور “قتل” کے خدشات کے باجود “مجھے اپنے ملک جانا ہی ہو گا۔”
“میری جماعت عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں، اگر مرنا ہی ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اپنی دھرتی پر موت کو گلے لگاؤں جہاں میرے والدین دفن ہیں، اور جہاں ان کا خون بہایا گیا تھا۔”
یاد رہے شیخ حسینہ 2024 میں ملک گیر احتجاج کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں، جبکہ بعد ازاں بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے انہیں احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کرانے کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔
ان کی ممکنہ واپسی سے بنگلہ دیش میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات میں بہتری بھی آ سکتی ہے، جو ان کی جلاوطنی کے بعد متاثر ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت سے مشاورت کے بغیر واپس جانے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ڈھاکا میں حکام “مجھے واپس لانا چاہتے ہیں، وہ میری واپسی کے لیے بار بار بھارتی حکومت کو خط لکھ رہے ہیں، [لیکن] میں خود جاؤں گی۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “میری جماعت کے تقریباً تمام رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں اور ان میں سے کئی مفرور ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ اس بار میں اپنے گھر واپس جا رہی ہوں اور ایک دن تم سب کو بھی واپس چلے جانا چاہیے۔ ہم سب مل کر عدالت میں سرینڈر کریں گے۔”
واضح رہے کہ شیخ حسینہ بنگلا دیش کی طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی رہنما رہی ہیں تاہم ان کے دور حکومت میں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف پر یقین رکھتی ہیں اور عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کیسی رہی۔
“کوئی بھی حکومت غلطی سے بالا نہیں ہے، جب بھی کوئی حکومت لمبے عرصے تک اقتدار میں رہتی ہے تو غلطیاں ہو جاتی ہیں، لیکن غلط اور صحیح کو پرکھنا اور حکومتوں کے اچھے اور برے کو تولنا عوام کا اختیار اور کام ہے، میں بھی اپنا فیصلہ عوام پر چھوڑتی ہوں۔”
