نیویارک: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے دہشتگرد حملوں کے متاثرین کی یاد میں منعقد ہونے والی شہر کی سالانہ 9/11 یادگاری تقریب میں شرکت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جمعہ کو ہونے والی تقریب میں شریک ہوں گے۔
ممدانی کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے متاثرین کے بعض اہلخانہ، سابق اہم عہدیداروں اور کئی ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے ان پر تقریب میں شرکت نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ممدانی کی شرکت کی مخالفت کی بنیادی وجہ ان کی جانب سے رمزی قاسم کو نیویارک سٹی کا چیف لیگل کونسل مقرر کرنا بنی ہے۔
ناقدین نے قاسم کی ماضی کی قانونی خدمات پرسوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ایک سزا یافتہ رکن کی قانونی نمائندگی کی تھی۔
مذکورہ شخص کا برادر نسبتی ان دہشتگردوں میں شامل تھا جنہوں نے 11 ستمبر 2001 کو ہائی جیک کیے گئے طیارے کو پینٹاگون سے ٹکرایا تھا۔
ممدانی کے خلاف 9/11 متاثرین کے بعض رشتہ داروں کی جانب سے ایک پٹیشن بھی شروع کی گئی ہے، جس میں میئر سے سالانہ یادگاری تقریب میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پٹیشن پر تقریباً ایک لاکھ افراد دستخط کرچکے ہیں، سابق نیویارک گورنر جارج پٹاکی نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ ممدانی کو تقریب میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری جانب میئر زوہران ممدانی نے حملوں کے متاثرین اور امدادی کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے اپنے عزم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9/11 کی یادگاری تقریب میں ان کی شرکت کا مقصد ان افراد اور خاندانوں کو یاد کرنا ہے جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیارے کھو دیے۔
گزشتہ ہفتے ممدانی نے دو انتظامی احکامات پر بھی دستخط کیے، ان میں سے ایک حکم کے تحت 11 ستمبر کو ہر سال ’’سٹی وائیڈ ڈے آف ریمیمبرنس اینڈ سروس‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ دوسرے انتظامی حکم کا مقصد شہر میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے۔
چیف لیگل کونسل رمزی قاسم بھی ان احکامات پر دستخط کے موقع پر موجود تھے، جس کے بعد ممدانی کے ناقدین نے ان پر مزید تنقید کی۔
ممدانی نیویارک شہر کے پہلے مسلمان میئر ہوں گے جو سرکاری طور پر منعقد ہونے والی 9/11 یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے۔
تاہم ان سے قبل تقریباً ہر نیویارک میئر اس سالانہ تقریب میں شرکت کرتا رہا ہے، جس میں حملوں کے متاثرین، ان کے اہلخانہ، امدادی کارکن اور شہر کی اہم شخصیات شریک ہوتی ہیں۔
تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب سابق نیویارک میئر روڈی جولیانی نے نیوز میکس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ممدانی 9/11 یادگاری تقریب میں شریک ہوئے تو انہیں اس پر افسوس اور ناراضی ہوگی۔
جولیانی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ممدانی 11 ستمبر کے حملوں کو دہشتگردی کی کارروائی نہیں سمجھتے، تاہم ممدانی کے ناقدین کے اس دعوے کو دیگر حلقوں کی جانب سے بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
بعض افراد نے جولیانی کے بیانات کو مسلم مخالف قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید بھی کی۔
نیویارک کارنیول پریڈ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ممدانی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ جمعہ کو ہونے والی 9/11 یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ان کی توجہ ان فرسٹ ریسپانڈرز پر مرکوز ہوگی جنہوں نے حملوں کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کی اور بعد ازاں شہر کی بحالی میں بھی کردار ادا کیا۔
ممدانی کا کہنا تھا کہ انہیں نیویارک شہر کا میئر ہونے پر فخر ہے اور وہ شہر اور ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس ہفتے کی توجہ سیاسی اختلافات کے بجائے ان خاندانوں پر ہونی چاہیے جن کے پیارے 25 سال قبل 11 ستمبر کے ہولناک دہشتگرد حملوں میں ان سے چھین لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان امدادی اہلکاروں کو بھی یاد کیا جانا چاہیے جنہوں نے شہر اور شہریوں کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔
جب ممدانی سے روڈی جولیانی کے بیانات سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔
تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔



