پاکستان نے نارووال میں مندر سے متعلق تمام بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نارووال میں مندر کی عمارت 21 جولائی 2026 کو طوفانی بارشوں کی وجہ سے متاثر ہوئی، بارشوں سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے کر مندر کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے کہا کہ حقائق کو مسخ کرنا اور معاملے پر سیاست چمکانا بھارت کا وطیرہ ہے، بھارت کا جھوٹا پراپیگنڈا اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/Czt2W3Au5t
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 4, 2026
دنیا ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کے خلاف استعمال ہوتے دیکھ رہی ہے،اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری بھارت کا محاسبہ کرے،بھارت میں اقلیتوں پر ریاستی سرپرستی میں مظالم پوری دنیا کے سامنے واضح ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کا کیا کہنا ہے؟
متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور ڈپٹی کمشنر نارووال طیب خان کے ہمراہ نارووال کے نواحی علاقے سراج گاؤں میں واقع 125 سالہ قدیم مندر کا موقع پر دورہ کیا۔ انہوں نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مندر کو دانستہ طور پر گرانے کی افواہوں اور منفی خبروں کی سخت تردید کی ہے۔
سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے واضح کیا کہ کسی فرد یا ادارے کی جانب سے مندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ حال ہی میں ہونے والی موسلا دھار طوفانی بارشوں کے باعث اس قدیم عمارت کا ایک بوسیدہ حصہ منہدم ہوا تھا، جسے انسانی کارروائی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر بے بنیاد افواہیں پھیلا کر اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سراج گاؤں یا اس کے گردونواح میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی کوئی فیملی رہائش پذیر نہیں ہے اور یہ ایک غیر فعال (Non-functional) مندر ہے جہاں کوئی مذہبی رسومات ادا نہیں ہوتی ۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کی وضاحت
صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ نارووال مندر کی زمین کبھی کسی کو لیز پر نہیں دی گئی، مندر کی خستہ حال عمارت کی فوری بحالی اور مرمت کے لیے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹ میں الزام، دعوے اور حقیقت کا فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ مذہبی عبادت گاہوں جیسے حساس معاملات پر بغیر تصدیق خبر چلانا غیر ذمہ دارانہ ہے
صوبائی وزیر نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کی محافظ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت پنجاب بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں کی ماسٹر پلاننگ جاری ہے۔


