کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کرنا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں صوبے کی تقسیم سے متعلق اراکین اسمبلی نے اپنی اپنی رائے پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ کے اظہار خیال سے قبل ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
نثار کھوڑو نے سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف قرارداد پیش کی۔ جسے اراکین اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت اور انتظامی تقاضوں کے مطابق بنتے ہیں اور سندھ ایک متحد صوبے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا اور سندھ پاکستان کے قیام کے وقت ایک متحد صوبے کے طور پر پاکستان کا حصہ بنا تھا۔ یہ کہنا کہ آبادی تین کروڑ سے بڑھ کر 25 کروڑ ہو گئی، اس لیے مزید صوبے بننے چاہئیں، درست دلیل نہیں۔
مراد علی شاہ نے صوبے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبادی بڑھنے کو ہی نئے صوبوں کی بنیاد بنایا جائے تو دنیا کے ہر ملک کا انتظامی ڈھانچہ اسی اصول پر تبدیل ہونا چاہیے۔ اور پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو آبادی کے اعدادوشمار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی مثال دینے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ امریکا نے اپنے قیام کے بعد ریاستوں میں اضافہ کس تاریخی عمل کے تحت کیا اور مثالیں دینے کے بجائے اپنے ملک کی ضروریات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کے بیانات پر کہا کہ ایک طرف کہا جارہا ہے سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور دوسری طرف انتظامی یونٹس کے نام پر نئے صوبائی ڈھانچے کی بات کی جارہی ہے۔
سندھ کی تقسیم کی بات ہو گی تو سیاست کو لات ماریں گے اور جان بھی دے دیں گے، سعید غنی
پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت، یہ وزارت، یہ سیاست، یہ ہماری زندگی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ سندھ کی تقسیم کی بات ہو گی تو وزارت، ممبر شپ، سیاست کو لات ماریں گے اور وقت پڑا تو جان بھی دے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کو صرف سندھ سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے، پنجاب یا خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کے قیام کے معاملے میں سندھ اسمبلی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
سعید غنی نے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے نئے صوبے کے قیام کی حمایت کی گئی تو اس فیصلے کی بھی حمایت کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی مخالف ہے اور سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی معاملے کا فیصلہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ ماضی میں بھی مختلف اوقات میں سامنے آتا رہا ہے، تاہم سندھ اسمبلی نے ہمیشہ ایسے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کی ایک تقریر کے بعد یہ معاملہ دوبارہ نمایاں ہوا، جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے پریس کانفرنسز اور جلسے کیے جبکہ دیگر صوبوں میں بھی نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیانات سامنے آئے۔
پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ہماری ریڈ لائن ہے، شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی وحدت سے متعلق سندھ اسمبلی میں ہونے والی مکمل بحث کو محفوظ کرکے تاریخی دستاویز کے طور پر شائع کیا جائے گا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے کی جانے والی تمام تقاریر اور بیانات اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنیں گے تاکہ مستقبل میں اس معاملے پر ارکان کے مؤقف کو مسخ نہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلے آئین کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں کیے جانے چاہئیں۔ ایسے فیصلے ٹی وی ٹاک شوز، سروے، ریفرنڈم، احتجاج یا جلسوں کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی فورمز پر ہونے چاہئیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اگر سندھ کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ سندھ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی کے معاملات میں صوبائی اسمبلیوں کا کردار آئین میں واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں بھی سندھ کی وحدت سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور تحریک التوا پر بحث کے بعد ایک اور قرارداد ایوان میں لائے جانے کی توقع ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو اپنی صوبائی شناخت سے گہری وابستگی ہے، تاہم وہ پاکستان سے بھی مضبوط وابستگی رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری ہماری ریڈ لائن ہے، جبکہ ملک کی آئینی حیثیت، وحدت اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی یہ تاریخی بحث آئندہ نسلوں کیلئے ارکان اسمبلی کے مؤقف کا مستند ریکارڈ ثابت ہوگی۔
سندھ کے سینئر وزیر قاسم سراج سومرو نے کہا کہ صوبے سے متعلق اہم معاملات پر بحث کیلئے سندھ اسمبلی ہی مناسب فورم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سندھ نے ہمیشہ صوبے کی تقسیم کے ایجنڈے کو مسترد کیا ہے۔
ایم کیو ایم کے رکن معید انور نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اس حوالے سے کسی تنازع یا اشتعال انگیز بیان بازی کی ضرورت نہیں۔ تاہم اگر انتظامی یونٹس کا قیام عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہو تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رکن روما مشتاق مٹو نے سندھ کی تقسیم کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کی خواہش پر صوبہ تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے چند افراد پہلے ہی سیاسی مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کی رکن سکندر خاتون نے کہا کہ نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک پیش کیے جانے کے بعد انہیں اسمبلی میں اپنی جماعت کا مؤقف بیان کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے تقریباً 70 فیصد ارکان پہلے ہی انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق اپنی رائے دے چکے ہیں۔
سکندر خاتون نے آئین کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی اور نئے صوبے کے قیام سے متعلق آئینی طریقہ کار موجود ہے جبکہ دیہی سندھ میں بچوں کو اب بھی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، اس لیے انتظامی ڈھانچے پر بحث کے ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔


