’منگل کی شام جب ہم گھر سے اسپتال روانہ ہوئے تو دل خوشی سے سرشار تھا اور خوشی کیوں نہ ہوتی؟ شادی کے چار سال بعد پہلی اولاد کی نوید سننے والے تھے جس کے لیے ہم پمز اسپتال پہنچے تھے۔ شام سے علی الصبح تک اسپتال کی راہداریوں اور سبزہ زار میں ٹہلتے، بے چینی سے ڈاکٹرز کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے رہتے اور پھر کئی گھنٹوں انتظار کے بعد صبح تقریباً چار بجے یہ خوش خبری سننے کو ملی کہ اللہ نے بیٹا عطا کیا ہے۔‘
صرف دو گھنٹے جینے والے بچے کے والد یہ بات کہتے ہوئے اپنا نام تک بتانے سے ڈر رہے تھے کہ کہیں انہیں انتظامیہ تحقیقات میں شامل نہ کرلے اور انہیں ایک نئے عذاب سے گزرنا پڑے۔
26 اگست کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں وہاں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
ایک جاں بحق بچے کے والد نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ “چار بجے بیٹا ہونے کی خوش خبری ملی تو میں مسجد چلا گیا۔ سجدہ شکر ادا کیا اور گھر پر منتظر اہل خانہ کو فون کیے۔ اس دوران باہر موجود افراد کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے منتظر تھا کہ کب بلاوا آئے گا۔ اچانک اطلاع ملی کہ وارڈ میں آگ لگ گئی ہے۔ میں جو بڑی منتوں مرادوں سے بچے کا باپ بنا تھا اوپر دوڑا لیکن بچوں کو بچانے کے بجائے ہر کوئی باہر کی طرف دوڑ رہا تھا۔ میں بچتا بچاتا وارڈ تک پہنچ، اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ اس قدر شدید تھی کہ میں واپس دروازے پر آ کر گرا۔ پھر کوشش کرکے کچھ بچوں کو نکالا جو جھلسے ہوئے تھے لیکن نہیں معلوم وہ زندہ تھے یا جان سے جا چکے تھے۔”

اسپتال میں آگ بجھانے کے انتظامات کیسے تھے؟
پمز اسپتال میں ہونے والی آتشزدگی کی وجوہات کا اگرچہ ابھی تک حتمی تعین نہیں ہو سکا تاہم پہلے شارٹ سرکٹ اور بعد ازاں ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ لگنے کے خدشات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسپتال میں آگ سے تحفظ اور انسانی جانیں بچانے کے انتظامات ناکافی تھے اور یہ درکار معیار کے مطابق نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق ہنگامی اخراج کے راستوں (فائر ایگزٹ) کو باہر سے تالے لگا کر مستقل طور بند کیا گیا تھا جبکہ آگ کی ابتدائی وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زیادہ بوجھ قرار دی گئی ہے۔
اس حوالے سے پمز انتظامیہ نے جو ابتدائی تحقیقات کی ہیں ان کے بارے میں ‘ہم ڈیجیٹل’ کو معلوم ہوا کہ اتبدائی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ابتدا میں آگ بہت زیادہ نہیں پھیلی تھی۔ لیکن پھر بچوں کو فوری طور پر ریسکیو کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ اس حوالے سے معلوم ہوا کہ آگ دیکھ کر این آئی سی یو میں موجود عملے نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی جب کہ این آئی سی یو کے دروازے اس طرح سے بنوائے گئے تھے کہ جب تک اندر سے کھولے نہ جائیں باہر سے ان کو نہیں کھولا جا سکتا۔ اس کی وجہ ماضی میں بچوں کے اغوا کے واقعات تھے اوریہی وجہ ہے کہ بچوں کو بچانے کے لیے جانے والے لواحقین بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ پمز اسپتال کے متعدد گیٹ ہیں لیکن جو دروازہ چلڈرن وارڈ کے قریب ہے، اسے سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر مستقل بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے فائر بریگیڈ پہنچنے میں بھی اضافی وقت لگا اور یہی وہ اضافی وقت تھا جس میں آگ پھیلی اور اور پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
‘نائٹ شفٹ میں عملہ کم ہونا بھی آگ پھیلنے کی وجہ قرار‘
پمز اسپتال کے حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ عموماً صبح اور شام کی شفٹ میں عملہ زیادہ ہوتا ہے اور رات کی شفٹ میں انتہائی ضروری عملے کو ہی بلایا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر حاضری لگانے کے بعد ادھر ادھر ہو جاتے ہیں یا مخصوص ٹھکانوں پر سو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کا نظام ہونے کے باوجود کوئی بھی آگ بجھانے کے لیے موجود نہیں تھا۔
معاملے کی مزید کھوج لگانے کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پمز کی اعلیٰ انتظامیہ اور وزارت قومی صحت کو کم از کم چار مرتبہ تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر کی صفائی، مینٹینیس اور مرمت کی ضرورت ہے اور ہر ہر مرتبہ انہیں فنڈز کی کمی کا کہہ کر ٹال دیا گیا۔
آخر آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟
واقعے سے متعلق میڈیا رپورٹس اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری اٹھی، جو ایئر کنڈیشنرکے اندر سے نکلی اور وزیر صحت نے میڈیا سے گفتگو میں بھی بتایا کہ اس معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں میڈیا کو بتایا کہ ایک منٹ بعد لوگ وارڈ سے باہر نکلنا شروع ہوگئے، اور اس دوران بظاہر بچوں کو دی جانے والی آکسیجن کے باعث آگ اچانک تیزی سے بھڑک گئی۔

سینئر ہیلتھ رپورٹر وقار بھٹی نے ہمیں بتایا کہ بچوں کی نرسری میں آکسیجن کے سلنڈر نہیں رکھے ہوتے مگر انکیوبیٹر میں موجود بچوں کو پائپ کے ذریعے کیسجن دی جارہی ہوتی ہے اور یہی آگ بھڑکنے کی وجہ ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر آتشزدگی کے مقام پر آگ بجھانے کے مناسب انتظامات نہ ہوں اور وہاں پہلے ہی آکسیجن کی فراہمی ہورہی ہو تو آگ تیزی سے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، عموماً اسپتالوں اور دیگر عوامی مقامات پر فائر سیفٹی کے تحت فائر اسپرنکل سسٹم نصب کیا جاتا ہے اگر یہ سسٹم نہ ہو تو آگ چند منٹ میں بہت تیزی سے پھیل جاتی ہے، اور ایسا ہی پمز اسپتال میں بھی ہوا۔
اسپتالوں میں آگ بجھانے کا نظام کیسا ہونا چاہیے؟
وقار بھٹی نے بتایا کہ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات سے بچنے کے لیے مختلف سسٹم نصب کیے جاتے ہیں، جن میں فائر اسپرنکلز سسٹم، فائر ڈیٹیکشن سسٹم، اسموگ الرٹ، ڈیٹیکیٹر سسٹم وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ اسپتال کی عمارت میں پانی کی لائنیں بھی بچھائی جاتی ہیں، آگ لگنے پر خود کار نظام کے تحت اس میں سے پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔
بڑے حادثات کے بعد ذمہ داری قبول کرنے کا کلچر کیوں نہیں؟
دنیا میں جب ایسے حادثات ہوتے ہیں تو اعلیٰ حکومتی شخصیات اور سرکاری حکام اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجاتے ہیں تاکہ نہ صرف واقعے کی شفاف تحقیقات ہوسکیں بلکہ ان حادثات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں ان کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں لیکن پاکستان میں مستعفی ہونے کا رواج تو ناپید ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ سرکاری محکمے ہر حادثے کو اپنے لیے کمائی کا نیا ذریعہ اور بہانہ بھی بنا لیتے ہیں۔
کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے فوری بعد پنجاب حکومت نے سیفٹی آلات نصب کرنے اور اس سلسلے میں مارکیٹس اور نجی اداروں اور عمارات میں آگاہی پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران سول ڈیفینس اہلکاروں نے لاکھوں روپے کی مبینہ دیہاڑیاں لگائیں جس کی شکایات باضابطہ وزیراعلیٰ آفس تک پہنچائی گئیں۔

ان شکایات میں سب سے زیادہ شکایات یہ تھیں اہلکار دکانداروں، ہوٹل مالکان اور کاروباری افراد سے فرضی انتظامات کرنے کا کہتے اور سرٹیفیکیٹ کے اجرا کے عوض سے پندرہ سے بیس ہزار روپے رشوت طلب کرتے۔ اس سلسلے میں جب شکایات وزیراعلیٰ تک پہنچیں تو انہوں نے اس کا نوٹس لیا اور متعلقہ محکمہ کو اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا حکم دیا۔
پاکستان میں گورننس کے نظام پر ہمیشہ سے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ کیا حادثات روکنے یا حادثات کے بعد صورت حال کو سنبھالنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے سسٹم میں سکت ہے یا نہیں اس حوالے سے سابق وفاقی سیکرٹری ہاشم پوپلزئی نے بتایا کہ “حادثات کی روک تھام کے اقدامات کے لیے سرکاری مشینری اور ادارے تو موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود حادثات کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس کی بڑی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ انتظامہ غفلت، نااہلی یا پھر فنڈز کی عدم دستیابی ہوتی ہے جس کے باعث کچھ کام التوا میں چلے جاتے ہیں اور بالآخر وہ کسی سانحے کا باعث بن جاتے ہیں۔”
ترقی یافتہ دنیا میں کتنی ہی ایسی مثالیں ملتی ہیں جب پمز جیسے بڑے حادثات کے نتیجے میں متعقلہ وزیر یا سرکاری حکام از خود اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے لیکن پاکستان میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس حادثے کے فوری بعد اگرچہ وزیراعظم نے وفاقی سیکرٹری وزارت صحت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر وفاقی صحت عہدے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے خود کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑے کرنے کا دعویٰ ضرور کیا ہے۔
اس حوالے سے سابق وفاقی سیکرٹری محمد روف کہتے ہیں کہ ” پاکستان میں بظاہر کسی وزیر یا اعلیٰ حکام کا استعفٰی حادثے کے محرکات کا حل نہیں سمجھا جاتا اور عموماً وزراء یا اعلیٰ سرکاری حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بذات خود تو تاروں، پائپس یا چھوٹی موٹی تعمیر و مرمت کے ذمہ دار نہیں ہیں اس لیے وہ مستعفی نہیں ہوتے۔”
انہوں نے کہا کہ “ہمارے ہاں عموماً اعلیٰ حکام کو بچانے کے لیے نچلی سطح کے ملازمین کی بلی چڑھائی جاتی ہے اور اعلیٰ حکام تحقیقات پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اگر یہ روایت موجود ہو کہ وزیر سمیت اعلیٰ حکام مستعفی ہو کر تحقیقات کے لیے خود کو پیش کریں اور اگر ان کا قصور ثابت نہ ہو تو اخلاقی طور پر کلیئر یو کر اپنے عہدوں پر واپس آ جائیں تو اس سے ایک تو تحقیقات شفاف ہوں گی اور دوسرا ان کا اخلاقی قد کاٹھ بڑھ جائے گا۔”
انتظامی امور کی ماہر ڈاکٹر آمنہ محمود کہتی ہیں کہ “سول سروس اکیڈمیوں کا نصاب اور تربیتی نظام بہت پرانا ہے جہاں سے افسران خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر نہیں بلکہ پروٹوکول اور مراعات کے حصول کے طریقے سیکھ کر نکلتے ہیں جبکہ پوری دنیا کا نظام خدمات کی فراہمی اور عوامی مرکزیت پر منتقل ہو چکا ہے۔ اس لیے پاکستان میں بھی اس نظام کے تربیتی نصاب اور طریقہ کار میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔”
