لاہور: ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ کے ایک بڑے کیس میں نجی بینک کے 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا۔ صارفین کے اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے نکال لیے گئے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق ملزمان نے بینکنگ سسٹم سے کروڑ پتی صارفین کا انتخاب کیا، ان کے موبائل نمبر، ای میل اور پتے تبدیل کیے، نئے اے ٹی ایم کارڈ حاصل کیے اور پھر اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیں۔
حکام کے مطابق گروہ نے پانچ مالدار صارفین کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے نکال لیے تھے تاہم کارروائی کر کے مزید صارفین کو نقصان سے بچا لیا گیا۔
گروہ میں شامل نجی بینک کے ایک افسر نے مبینہ طور پر 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا اپنے ساتھیوں کو فراہم کیا۔ ملزمان نئے اے ٹی ایم کارڈز کی درخواست دینے کے بعد کسی دوسرے گھر کے باہر ریکی کرتے اور جعل سازی سے رائیڈر سے کارڈ وصول کرلیتے تھے۔
ایف آئی اے نے تین رکنی گروہ کے قبضے سے 90 لاکھ روپے نقد اور اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت عبداللہ، عمران عزیز اور عاطف کے نام سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خاتون کا گینگ ریپ؛ مرکزی ملزمان گرفتار
ایف آئی اے نے شہریوں کو نئی نوعیت کے اس فراڈ سے محتاط رہنے اور اپنے بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کر دی۔
