امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے مصر میں حماس کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں غزہ میں جنگ بندی، امریکی صدر کے مجوزہ امن منصوبے اور اس کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ حماس کی قیادت نے جیرڈ کشنر کو غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور جاری فوجی کارروائیوں سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق کشنر نے واضح کیا کہ امریکا غزہ کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔
ایک باخبر عہدیدار کے مطابق حماس اور امریکی وفد کے درمیان ملاقات مصر کے شہر العلمین میں ہوئی، جس کا مقصد غزہ سے متعلق مجوزہ روڈ میپ کی ذمہ داریوں کو قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات میں تبدیل کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنا، غزہ کے انتظامی امور بتدریج ایک قومی فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنا اور مستقبل کی سول انتظامیہ میں حماس کے کردار کا خاتمہ شامل ہے۔ منصوبے کے تحت حماس سے حکومتی اختیار کے ساتھ ساتھ ہتھیار اور فوجی انفراسٹرکچر چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
Jared Kushner, President Trump’s son-in-law and envoy, is expected to meet with Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu in Jerusalem after holding rare talks with Hamas in Egypt in an effort to advance a stalled Gaza peace deal. https://t.co/n7TLscFmfo
— The Washington Post (@washingtonpost) August 17, 2026
ملاقات میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سمیت مصر کے انٹیلی جنس چیف حسن رشاد، قطری سفارت کار علی الثوادی اور ترکیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے شرکت کی۔ امریکی نمائندے نِکولے ملادینوف اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی جیرڈ کشنر کے ہمراہ مذاکرات میں شریک تھے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران اس نے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ کو قبول کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا، حماس کے مطابق اس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی مکمل پاسداری کی، تاہم اسرائیل نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور انسانی بحران کو مزید سنگین کیا۔
حماس نے ثالث ممالک اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے، خلاف ورزیاں روکنے، ہلاکتوں اور فوجی دراندازیوں کا سلسلہ بند کرنے اور ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے ٹائم فریم طے کرنے پر آمادہ کریں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے تازہ غزہ روڈ میپ کو اسرائیل کے لیے ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں، اسی اختلاف کو ختم کرنے کے لیے کشنر نے اسرائیل اور مصر کے دورے کیے ہیں تاکہ فریقین کے درمیان موجود خلیج کم کی جاسکے۔
جیرڈ کشنر نے حماس سے ملاقات کے بعد مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی۔ مصری ایوانِ صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے غزہ کے علاوہ مصر اور امریکا کے باہمی تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ السیسی نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا جبکہ کشنر نے علاقائی امن کے فروغ میں مصر کے کردار کو سراہا۔
ادھر مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ روڈ میپ مسترد کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی قیادت میں جاری امن کوششوں اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے اسلام آباد ایم او یو کی 60 روزہ مدت ختم
ٹرمپ کے مجوزہ روڈ میپ میں غزہ میں فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے، اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کی تعمیرِ نو کو ایک نئی سول فلسطینی انتظامیہ کے تحت آگے بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ دوبارہ شروع ہونے سے بچنے کے لیے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم معاہدے پر عملدرآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے، فوجی انخلا اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔
