زمبابوے میں جھیل کاریبا میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 44 ہوگئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق حادثے کے بعد جھیل سے مزید 24 لاشیں نکال لی گئی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 44 ہوگئی۔
زمبابوے کے حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر اس کی مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔ کشتی میں 90 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش تھی، تاہم جھیل پار کرتے وقت تقریباً 120 افراد اس پر موجود تھے۔
حکام کے مطابق جھیل میں تیز ہواؤں کے باعث کشتی کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی۔ حادثے کے بعد 67 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
This is So Sad, why would the government allow such a boat to transit in the lake. pic.twitter.com/nd446cnlAv
— Tatenda Gudyanga🇿🇼 (@TatendaGudyang) August 12, 2026
زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق کشتی میں ٹکٹوں کی فروخت کے ریکارڈ کے مطابق 114 مسافر اور 5 عملے کے ارکان سوار تھے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کشتی میں ایسے بچے بھی موجود ہوسکتے ہیں جن کے لیے ٹکٹ درکار نہیں تھا، اس لیے مسافروں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
حکام کے مطابق کشتی کی گنجائش صرف 90 افراد تھی، جس کے باعث اس پر مقررہ حد سے زیادہ افراد سوار ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے واقعے کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حادثے کے بعد بچ جانے والے افراد کو جھیل میں واقع لانگ آئی لینڈ منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں سول پروٹیکشن یونٹ کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران
جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور حجم کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ جھیل دریائے زیمبیزی پر ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں وجود میں آئی اور تقریباً 200 کلومیٹر طویل اور 40 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔
