بھارتی ائیر لائن کی پرواز اچانک 300 فٹ نیچے چلی گئی، اس دوران مسافر و عملے کے ارکان زخمی ہو گئے۔
گلف نیوز کے مطابق فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-2379 کے دوران اچانک تقریباً 300 فٹ کی بلندی کم ہونے کے واقعے کی تحقیقات میں پائلٹ اور طیارے کے تکنیکی نظام دونوں زیرِ غور آ گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق پرواز کے کپتان نے واقعے کے بعد کیے گئے ابتدائی ڈرگ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے ٹیسٹ میں بھی ناکامی ظاہر کی جبکہ تازہ ٹیسٹ میں مبینہ طور پر چرس (ماریجوانا) کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے تاہم تحقیقات کرنے والے اداروں نے تاحال یہ قرار نہیں دیا کہ مبینہ منشیات کے استعمال کا واقعے سے براہِ راست تعلق تھا۔

واقعے کے وقت طیارہ 137 مسافروں اور 8 رکنی عملے کے ساتھ کروز پرواز کر رہا تھا کہ اسٹال وارننگ کے بعد اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آیا۔ واقعے میں 20 مسافر اور عملے کے 4 ارکان زخمی ہوئے، جن میں دو فضائی میزبان بھی شامل تھے جنہیں گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے قریب چوٹیں آئیں۔
ایئر انڈیا کی اندرونی سیفٹی رپورٹ کے مطابق واقعے سے چند لمحے قبل کپتان اپنی نشست پر موجود نہیں تھے اور فرسٹ آفیسر سے ایئر کنڈیشننگ سسٹم کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ اسی دوران متعدد وارننگز فعال ہوئیں، آٹو پائلٹ منقطع ہوا اور طیارے کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھ گیا۔
فرسٹ آفیسر نے اسٹال وارننگ پر طیارے کی ناک نیچے کی جس کے نتیجے میں شدید منفی جی فورس پیدا ہوئی اور کاک پٹ میں موجود افراد اور ڈھیلی اشیا لمحاتی طور پر اوپر اٹھ گئیں۔
دوسری جانب تفتیش کار طیارے کے تینوں ہائیڈرولک سسٹمز میں خرابی کے ممکنہ شواہد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، انجینئرنگ ریکارڈز میں پہلے گرین ہائیڈرولک سسٹم میں کم دباؤ، بعد ازاں بلیو اور یلو سسٹمز سے متعلق اشاروں اور پھر تینوں سسٹمز سے متعلق وارننگز کا ذکر سامنے آیا ہے۔
🚨SHOCKING | Several passengers injured after Air India Phuket–Delhi flight suddenly dropped around 300 ft; the pilot was high on marijuana pic.twitter.com/fCsLB6fevs
— The Tatva (@thetatvaindia) August 12, 2026
طیارے میں آٹو پائلٹ کے منقطع ہونے اور بائیں و دائیں ایلیویٹر سے متعلق خرابی کی نشاندہی بھی ہوئی، جس سے طیارے کے پچ کنٹرول کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارتی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی ایک اطلاع یا شواہد کی بنیاد پر واقعے کی وجہ اخذ نہ کی جائے، تحقیقات میں تکنیکی، آپریشنل، طبی اور انسانی عوامل سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ایئربس اور فرانس کے BEA کے ماہرین بھی معاونت کر رہے ہیں۔
جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران
واقعے کو بھارتی شہری ہوا بازی کے ریگولیٹر DGCA نے سنگین نوعیت کا واقعہ قرار دیا ہے، طیارہ بعد ازاں بحفاظت نئی دہلی میں اتر گیا جبکہ دونوں پائلٹس کو تحقیقات مکمل ہونے تک پرواز سے ہٹا دیا گیا ہے۔
