واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں جاری رکاوٹوں کے باعث امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے رواں سال عالمی خام تیل کی قیمتوں کے تخمینے میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
امریکی ادارے کے مطابق رواں سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کا تخمینہ 81.91 ڈالر سے بڑھا کر 86.81 ڈالر فی بیرل کر دیا گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی اوسط قیمت کا اندازہ 76.26 ڈالر سے بڑھا کر 80.88 ڈالر فی بیرل کر دیا گیا۔
ای آئی اے کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹیں اگست کے دوران بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی سپلائی کو خطرات لاحق ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں طویل عرصے تک آمدورفت متاثر ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ای آئی اے نے 2027 کے لیے تیل کی قیمتوں کا نسبتاً کم تخمینہ پیش کیا۔ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 69.39 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی اوسط قیمت 65.39 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے اور عالمی تیل کی سپلائی بحال ہوتی ہے تو آئندہ سال قیمتوں میں کمی ممکن ہے، تاہم کشیدگی اور ترسیل میں رکاوٹیں برقرار رہنے کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ موجود رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کاروباری شعبے کیلئے بڑی خبر، سپر ٹیکس میں مزید کمی کا امکان
عالمی توانائی کی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کو تیل کی قیمتوں کے لیے اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
