افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع ہونے لگا ، فاریاب میں کمانڈر گل محمد پہلوان کی قیادت میں طالبان مخالف ’’لبریشن فرنٹ‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔
افغانستان سے متعدد ذرائع کے مطابق لبریشن فرنٹ جلد اپنی تنظیمی ساخت اور سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ طالبان رجیم کے خلاف عوامی مزاحمت تیز ہو گئی ہے، انسانی حقوق پر پابندیوں کے خلاف ردعمل عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ فاریاب میں گزشتہ روز طالبان پر حملہ لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں نے کیا۔ اس کے علاوہ غورمچ میں بھی حملہ کیا۔
افغان طالبان رجیم کا ایک بار پھر انگوراڈہ میں سول آبادی پربزدلانہ حملہ
ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے گزشتہ تین ماہ میں 186 سابق فوجی اہلکاروں کو قتل کیا، گل محمد پہلوان کی قیادت میں نیا محاذ طالبان مخالف مزاحمت میں وسعت کی عکاسی ہیں۔
دوسری جانب ساب ق افغان رکن پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے رجیم کے خاتمے کی پیش گوئی کر دی۔
معروف افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کو خصوصی انٹرویو میں بکتاش سیاوش نے طالبان رجیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
یوں لگا جیسے بھارت ہمارا اپنا ملک ہو ، افغان طالبان رجیم کے وزیر کا شرمناک بیان
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کا مقصد اسلام کو خواتین، جدید تعلیم، فن اور انسانیت کیخلاف جابر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے، ایک مخصوص اور طے شدہ مدت تک طالبان رجیم کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ پس پردہ محرکین اپنے مذموم اہداف مکمل کر سکیں۔
بکتاش سیاوش کے مطابق جب دین اسلام کے خلاف یہ منفی مقصد پورا ہو جائے گا تو افغان طالبان رجیم کا وجود بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
