جب دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ‘ستلج’ آئی اور اس کے بارے میں چلنے والی باتوں کو بہت سے لوگوں نے “متنازع” قرار دیا، تو تجسس میرے آڑے آیا کہ اس ممنوع قرار دی گئی فلم کا اتنا چرچا آخر کیوں ہو رہا ہے!!
چنانچہ، پہلی فرصت میں فلم دیکھنے کا فیصلہ کیا۔
سچ کہوں تو جب 2 گھنٹے اور 43 منٹ طویل یہ فلم ختم ہوئی تو میں ان جذبات کے لیے بالکل تیار نہیں تھی جو اس فلم نے مجھ پر طاری کر دیے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ جب دلجیت اسٹیج پر آتے ہیں تو وہ لمحہ زندگی بھر کیلئے یادگار بن جاتا ہے۔ پنجابی سپر اسٹار جس توانائی، رعب، شان اور اعتماد کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
اسٹیج والے دلجیت کا تاثر لیے جب آپ انہیں جسونت سنگھ کھالڑا کے روپ میں دیکھتے ہیں۔۔۔ جی، وہی انسانی حقوق کے کارکن جنہوں نے بھارتی پنجاب میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے دوران مارے گئے ہزاروں سکھوں کی مبینہ خفیہ اجتماعی “آخری رسومات” کو دنیا کے سامنے لایا تھا۔۔۔ تو اچانک آپ کو وہی دلجیت، جو اسٹیڈیم بھرنے کے لیے مشہور ہے، خاموش، کمزور اور تقریباً ایک عام انسان دکھائی دیتا ہے۔
اور یہی وہ چیز ہے جو فلم میں ان کی اداکاری کو پُراثر اور دل پر نقوش چھوڑ دینے والا بناتی ہے۔
View this post on Instagram
ہدایت کار ہنی ٹریہن کی یہ فلم، جسے رپورٹس کے مطابق مکمل ہونے میں 3 سال لگے اور جس کے عنوان کو ‘گہلوگہارا’ (Genocide) سے تبدیل کر کے Punjab ’95 اور آخرکار ‘ستلج’ رکھا گیا، 3 جولائی کو بغیر کسی سینسر کٹ کے زی فائیو پر ریلیز ہوئی۔ تاہم صرف 2 دن بعد اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی 1990 کی دہائی کے بھارتی پنجاب کے گرد گھومتی ہے۔ جسونت ایک بینک ملازم ہے، جس کی زندگی اس کے اردگرد لوگوں کے پراسرار طور پر غائب ہونے کے بعد یکسر بدل جاتی ہے۔
ایک لاپتہ خاتون کی تلاش اسے اسپتالوں کے مردہ خانوں، شمشان گھاٹوں کے ریکارڈ اور ان لوگوں کی فہرستوں تک لے جاتی ہے جن کی لاشیں مبینہ طور پر “لاوارث” قرار دے کر ٹھکانے لگا دی گئیں، حالانکہ حکام کے پاس ان کی شناخت اور پتے موجود تھے۔
ابتدا میں جو کوشش اس نے صرف ایک خاندان کی مدد کے لیے شروع کی تھی، وہ آہستہ آہستہ اغوا، ماورائے عدالت قتل اور خفیہ طور پر اجتماعی “آخری رسومات” کے ایک منظم نظام کی تحقیقات میں بدل جاتی ہے۔
جوں جوں جسونت سنگھ اس گھناؤنے نظام کی کھوج لگاتا جاتا ہے، اس کا کام اتنا ہی خطرناک ہوتا جاتا ہے۔
وہ پولیس افسران کو چیلنج کرتا ہے، شواہد جمع کرتا ہے اور ان اداروں سے جواب طلب کرتا ہے جو انصاف فراہم کرنے سے زیادہ اپنی حفاظت میں دلچسپی رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسے بار بار خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ یہ سب کرنا بند کر دے۔ اس کے دوست مارے جاتے ہیں، اور پولیس کے اندر موجود وہ لوگ بھی اسی نظام کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں جو جسونت سنگھ کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
ان سب مظالم، مشکلات، اور خطروں کے باوجود جسونت سنگھ ہار ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔
فلم میں اس کی سکھوں کے خلاف جرائم کے شواہد عدالتوں اور بین الاقوامی برادری تک پہنچانے کی جدوجہد بھی دکھائی گئی ہے۔ وہ بیرونِ ملک سیاسی پناہ لینے اور ذاتی سکیورٹی کی پیشکشیں بھی مسترد کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک پنجاب چھوڑ دینا ان خاندانوں کو تنہا چھوڑنے کے مترادف تھا جن کے پیارے غائب کر دیے گئے تھے۔
اسی طرح ایک روز جسونت سنگھ کو بھی پولیس اہلکار اغوا کر لیتے ہیں اور خود ان کا شمار بھی لاپتہ افراد میں ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد جسونت کی اہلیہ، ‘پمّی’ ان کی تلاش جاری رکھتی ہے۔ عدالتیں حکام سے جسونت کو پیش کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں اور تحقیقات آہستہ آہستہ ذمہ دار افراد تک پہنچنے لگتی ہیں۔
آخرکار آخری گواہی اسی بات کی تصدیق کر دیتی ہے جس بات کا سب کو ڈر تھا۔ جسونت کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کیا گیا، اور پھر اس کی لاش ستلج میں پھینک دی گئی۔۔۔ وہی ستلج دریا جس کے نام پر دلجیت دسانجھ نے فلم کا نام رکھا ہے۔
دلجیت کی اداکاری
جسونت سنگھ کے کردار میں دلجیت دوسانجھ غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس کسی نے انہیں ‘امر سنگھ چمکیلا’ میں دیکھا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ سوانحی کردار یعنی بائیوپک نبھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
جسونت سنگھ کے کردار کی اصل طاقت اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ آخری حصے کے علاوہ، جہاں وہ ڈائیلاگ بولتے ہیں کہ، “میں اندھیرے کو چیلنج کرتا ہوں”، فلم میں کہیں بھی ایسی مبالغہ آمیز تقاریر نہیں ہیں جن کا مقصد صرف ایک “سنجیدہ” اداکاری کا تاثر دینا ہو۔
جسونت کے کردار کی ہمت آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے؛ ہر رجسٹر جو وہ پڑھتا ہے، ہر سوگوار شخص جس سے وہ ملتا ہے، اور ہر سرکاری جھوٹ جسے اس سے قبول کرنے کی توقع کی جاتی ہے، اس کی شخصیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
دلجیت کا جسونت نڈر انسان نہیں ہے۔ وہ خطرے کو پوری طرح سمجھتا ہے اور بار بار اپنے پیاروں کو اس سے آگاہ کرتا ہے۔
اس کے اندر کا ڈر تب واضح ہوتا ہے جب وہ کسی پولیس افسر کے سوال کا جواب دینے سے پہلے چند لمحے خاموش رہتا ہے، جب وہ کسی کمرے کا بغور جائزہ لیتا ہے، یا جب بھی اس کے خاندان کا ذکر آتا ہے تو اس کے چہرے پر فکر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس خوف کے باوجود وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے۔
دلجیت نے جسونت کی گرم جوشی اور انسانیت کو بھی پوری طرح برقرار رکھا ہے۔
وہ صرف ایک کارکن نہیں بلکہ ایک شوہر، باپ، دوست اور سب سے بڑھ کر اپنی برادری کا فرد بھی ہے۔ وہ مذاق کرتا ہے، مسکراتا ہے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔
یہ لمحات جسونت کے کردار کو محض “قربانی کی ایک علامت” بننے سے بچاتے ہیں۔ وہ ایک ایسا عام انسان محسوس ہوتا ہے جس کی زندگی ایک غیر معمولی ناانصافی کی نذر ہو گئی ہو۔

اگرچہ فلم کے ناظرین جانتے ہیں کہ حقیقی جسونت سنگھ کھالڑا کے ساتھ کیا ہوا تھا، پھر بھی دلجیت اپنی اداکاری سے انہیں اس امید سے وابستہ رکھتے ہیں کہ شاید وہ زندہ واپس آ جائے۔
یہی موہوم سی امید ان لاپتہ افراد کے خاندانوں کی زندگی کا سہارا بھی تھی، جو ہر روز اس یقین کے ساتھ جیتے تھے کہ شاید کوئی راہ نکل آئے، فون کی گھنٹی بجے یا ان کا پیارا گھر لوٹ آئے۔
فلم کے آخری حصے میں دلجیت کی اداکاری خاص طور پر متاثر کن ہے۔ وہ شخص جو کبھی تھانے کچہریوں میں جا کر جواب طلب کرتا تھا، پولیس کے تشدد سے نیلو نیل، کٹی پھٹی، اور سوجی ہوئی لاش میں بدل چکا ہے، مگر اس کا وقار پھر بھی برقرار رہتا ہے۔
ایک منظر فلم ختم ہونے کے بعد بھی میرے ذہن میں نقش رہا۔ اس منظر میں شدید تشدد کا شکار جسونت سنگھ کھڑکی کی چوکھٹ پر بیٹھا ایس پی او کلجیت سے کہتا ہے کہ “وہاں پیچھے بہت سردی ہے”، جبکہ اس کے جسم پر لگے گہرے زخم سے پانی بہہ رہا ہے۔
دلجیت نے یہ جملہ نہایت دھیمے لہجے میں ادا کیا، لیکن ان کے لہجے کی تھکن نے اس منظر کی پوری ہولناکی بیان کر دی، اور یہی ضبط اس لمحے کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔
یہی ضبط فلم پر پابندی لگائے جانے پر دلجیت کے ردِعمل کو بھی زیادہ معنی خیز اور پر زور بنا دیتا ہے۔
ایک بیان میں دلجیت کا کہنا تھا کہ وہ بہت مطمئن ہیں کہ فلم آخرکار لوگوں تک پہنچی اور اب جسونت سنگھ کھالڑا کا ذکر گھر گھر ہونے لگا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فلم پر پابندی لگنا ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہیں امید تھی کہ شاید پیر تک فلم چلے گی، لیکن پابندی اتوار کی شام ہی لگا دی گئی۔
دلجیت کے نزدیک اس فلم پر سنسر شپ کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی، کیونکہ فلم کسی غیر ثابت شدہ الزام پر مبنی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “یہ فلم صرف انہی حقائق کی بات کرتی ہے جن پر عدالتیں پہلے ہی فیصلے دے چکی ہیں۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جسونت سنگھ کھالڑا کی آواز کو 1995 میں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینے کے بعد اب آخر 2026 میں ان کی کہانی کو کیوں دبایا جا رہا ہے۔

دلجیت دوسانجھ نے اس مایوسی اور جھجھلاہت کا بھی ذکر کیا جو فلم کے برسوں تک ریلیز نہ ہو سکنے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے وہ گانے ریکارڈ کر رہے ہوتے یا کنسرٹس کر رہے ہوتے، بار بار یہی خیال انہیں پریشان کرتا تھا کہ فلم ابھی تک لوگوں تک نہیں پہنچ سکی۔
تاہم، بے شک تھوڑے وقت کے لیے ہی سہی، فلم کے ریلیز ہونے سے بظاہر انہیں کچھ سکون ضرور ملا۔
انہوں نے کہا، “اب یہ فلم آپ کی ہے۔ اب اسے مزید روکا نہیں جا سکتا۔”
شاید یہی جملہ فلم اور دلجیت کی اداکاری دونوں کو بہترین طریقے سے بیان کرتا ہے۔ دلجیت نے جسونت سنگھ کو ایسی آواز دی ہے جو بلند نہیں، بلکہ خاموش، باوقار اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اور ایک بار یہ آواز جب سن لی جائے، تو اسے دوبارہ خاموش کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
فلم کے اثرات
بھارتی پنجاب کی تاریک ترین دہائی صرف آزاد خالصتان کا مطالبہ کرنے والے سکھ عسکریت پسندوں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کی کہانی نہیں تھی۔
یہ وہ دور بھی تھا جب عام خاندان چھاپوں، من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور اس خوف کے ساتھ زندگی گزارتے تھے کہ جو شخص پولیس ایک بار لے گئی، وہ شاید ہی کبھی واپس آئے۔
بھارتی ریاست نے اپنے اقدامات کو عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا، لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشدد، ماورائے عدالت قتل اور ایسے نظام کی دستاویزات پیش کیں جن میں احتساب اکثر ریاستی طاقت کے تحفظ سے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا تھا۔
یہی وہ تاریخ تھی جس میں جسونت سنگھ کھالڑا نے قدم رکھا۔
ان کی تحقیقات صرف شمشان گھاٹوں کے رجسٹروں میں درج اعداد و شمار تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ ان لوگوں کے نام، شناخت اور وقار بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے جن کی لاشیں مبینہ طور پر ان کے خاندانوں کی اطلاع کے بغیر ٹھکانے لگا دی گئی تھیں۔

1995 میں ان کی اپنی گمشدگی اور بہیمانہ قتل نے یہ واضح کر دیا کہ خاموشی کو چیلنج کرنے کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بعد میں پنجاب پولیس کے متعدد اہلکاروں کو سزا سنائی گئی، لیکن جو کچھ سامنے آیا تھا، اس کے مقابلے میں انصاف کا دائرہ نہایت محدود رہا۔
بہت سے خاندانوں کے لیے جدوجہد صرف مجرموں کو سزا دلوانے کی نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بات سنی جائے، ان پر یقین کیا جائے، اور انہیں اپنے پیاروں کا سوگ منانے کا حق دیا جائے۔
یہ جدوجہد شورش کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ اس نے صرف اپنی شکل بدل لی۔ یہ لڑائی گلیوں اور پولیس تھانوں سے نکل کر عدالتوں، سرکاری ریکارڈ، نیوز رومز اور سینما کی اسکرینوں تک پہنچ گئی۔
یہ دراصل یادوں کی جنگ بن گئی تھی کہ پنجاب کی اس تاریک دہائی کی کون سی داستان زندہ رہے گی؟ کن ریکارڈز کو تسلیم کیا جائے گا؟ اور کیا لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اپنی کہانی خود بیان کرنے کا حق ملے گا؟
اسی لیے ‘ستلج’ ان بھارتی فلموں کی ایک طویل فہرست میں شامل ہو جاتی ہے جنہیں اس وقت سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایسی تاریخی حقیقتوں کو موضوع بنایا جنہیں ریاست، سیاسی حلقے یا ثقافت کے نگران ادارے فراموش کر دینا چاہتے تھے۔
‘پانچ’ (2003)، جو پانچ نوجوان موسیقاروں کی کہانی پر مبنی ایک پُرتشدد کرائم ڈرامہ تھی، آج تک باضابطہ طور پر ریلیز نہیں کی گئی۔
بلیک فرائیڈے (2004)، جس میں 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کا جائزہ لیا گیا، متعلقہ مقدمے کے فیصلے تک روک دی گئی۔
پرزانیا (2005)، جو گجرات فسادات کے دوران ایک بچے کی گمشدگی پر مبنی تھی، قومی ایوارڈ جیتنے کے باوجود گجرات کے سینما گھروں میں مؤثر طور پر نمائش سے محروم رہی۔
‘ان شاء اللہ، فٹبال’ (2010) کو کشمیر کے موضوع پر مبنی ہونے کی وجہ سے سرٹیفیکیشن دینے سے انکار کر دیا گیا، جبکہ اَن فریڈم (2015) کو ہم جنس شناخت، مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسے موضوعات چھیڑنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
View this post on Instagram
اگرچہ ان تمام فلموں کے موضوعات اور انداز ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہونے والا سلوک اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی طور پر حساس حقائق کو نرم یا مسخ کرنے سے انکار کرنے والا سنیما طاقتور حلقوں کو قبول نہیں۔
لیکن کہانیاں دبانے سے ختم نہیں ہوتیں۔ بلکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ یادیں اور سچائی کس قدر طاقتور ہوتی ہیں اور بعض حلقوں کے لیے تشویشناک بھی۔
اسی لیے دیکھنے کے بعد ‘ستلج’ کئی دنوں تک آپ کے ذہن سے نہیں نکلتی۔ یہ فلم صرف جسونت سنگھ کھالڑا کی یاد کو زندہ نہیں کرتی۔
یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب ادارے خود فیصلہ کرنے لگیں کہ انصاف کا حق کس کو حاصل ہے، کس کی موت وضاحت کی مستحق ہے، اور کن خاندانوں کو اپنے پیاروں پر سوگ منانے کی اجازت ہونی چاہیے، تو معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ ریاستی تشدد صرف اپنے براہِ راست متاثرین تک محدود نہیں رہتا۔ یہ گھروں میں داخل ہوتا ہے، برادریوں کو تقسیم کرتا ہے اور لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جو لوگ ظلم کے گواہ بنتے ہیں، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ جو اس ظلم کو دستاویزی شکل دیتے ہیں، وہ خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ اور جو زندہ بچ جاتے ہیں، وہ لاشوں، ریکارڈز اور جوابات کی تلاش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دلجیت دوسانجھ کی موجودگی اس کہانی کو وہ وسعت عطا کرتی ہے جو شاید اسے کبھی حاصل نہ ہوتی۔ ان کی مقبولیت لاکھوں لوگوں کو تاریخ کے اس باب کی طرف متوجہ کرتی ہے جسے بہت سے لوگ دفن ہی رہنے دینا چاہتے ہیں۔
لیکن یہی بات دلجیت کے فلم کے بعد لیے جانے والے بعض فیصلوں کو سمجھنا مشکل بنا دیتی ہے۔ ستلج کی شوٹنگ مکمل کرنے کے بعد دلجیت نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا، وہاں کی خوبصورتی اور مہمان نوازی کی تعریف کی، اور “امن برقرار رکھنے” پر بھارتی فوج کا شکریہ ادا کیا۔

یہ رویہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات سے بظاہر صرفِ نظر کرتا دکھائی دیا، جن کا سامنا کرنے کی دعوت یہی فلم اپنے ناظرین کو دیتی ہے۔
ممکن ہے یہ تضاد ان سمجھوتوں کی عکاسی کرتا ہو جو طاقتور فلمی صنعتوں اور سیاسی نظاموں میں کام کرنے والے فنکاروں کو کرنے پڑتے ہیں۔ یا شاید یہ ان “نظریاتی حدود” کو ظاہر کرتا ہو جن سے فنکاروں کے فنی اظہار بھی آزاد نہیں ہو سکتے۔
اس کے باوجود ‘ستلج’ جبری گمشدگیوں، احتساب سے استثنیٰ، اور ریاستی طاقت کے استعمال کے بارے میں اٹھانے والے سوالات کی وجہ سے ضرور دیکھی جانی چاہیے۔
یہ فلم دکھاتی ہے کہ جب اختیار بے لگام ہو جائے تو وہ کس طرح خوف پیدا کرتا ہے، شواہد مٹا دیتا ہے، اور خاندانوں کو غم اور امید کے درمیان معلق چھوڑ دیتا ہے، چاہے وہ سرحد کے کسی بھی جانب رہتے ہوں۔
فلم کی کاسٹ میں دلجیت دوسانجھ، ارجن رام پال، سوویندر وکی، کنول جیت سنگھ، گیتیکا ودیا اوہلیان، ورون بدولا اور سوربھ سچدیوا شامل ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، فلم کو ہٹائے جانے سے قبل IMDb پر اس کی ریٹنگ 9.5 تھی، جو بعد ازاں فلم کے آف ایئر ہونے کے بعد ہٹا دی گئی۔
یہی تحریر انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
