امریکا کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی کے بعد ایران نے جوابی حکمت عملی تیار کر لی۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی توانائی تنصیبات، خصوصاً بجلی گھروں، پر ممکنہ امریکی حملوں کی صورت میں جوابی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایران کے پاور پلانٹس یا دیگر اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران یمن کی حوثی تنظیم کے ذریعے آبنائے باب المندب بند کرانے کا اقدام کر سکتا ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حوثیوں کو ہدایات بھی جاری کی جا چکی ہیں۔
باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اگر اسے بند کیا گیا تو بحیرہ احمر سے گزرنے والی جہاز رانی متاثر ہونے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی پر بھی مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل جائے گا اور ایران مختلف انداز سے جواب دے گا۔
محمد اکرمینیا نے کہا کہ اگر “دشمن” نے جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران نئے ہتھیاروں اور نئی حکمت عملی کے ساتھ ایسے محاذ کھولے گا جن کا اسے اندازہ بھی نہیں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے حالیہ وقفے کے دوران اپنی جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔
ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ممالک یا خطے کی اسلامی ریاست سے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ ہم ہمیشہ علاقائی تعاون اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں رہے ہیں۔
امریکی جارحیت جاری رہی تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل جائے گا، ترجمان ایرانی فوج
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے بعد خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی حکام اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں کیں تو صرف روایتی جواب نہیں دیا جائے گا بلکہ خطے میں نئے محاذ بھی کھل سکتے ہیں، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر پڑ سکتے ہیں۔
