لاہور، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں تعلیم کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور طلبہ کے لیے متعدد فلاحی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اسکول آف ایمیننس غریب اور باصلاحیت طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب کے ہر بچے کو جدید تعلیمی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
لاہور میں نواز شریف اسکول آف ایمیننس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان اسکولوں میں جدید آئی ٹی لیبز، معیاری لائبریریاں اور عالمی معیار کی تدریسی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بہترین تعلیمی ماحول دینا حکومت کا عزم ہے اور یہی ادارے مستقبل میں رول ماڈل تعلیمی مراکز ثابت ہوں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے سرکاری اداروں کا معیار نجی تعلیمی اداروں کے برابر لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں نااہل حکومتوں کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ نظرانداز رہا، تاہم موجودہ حکومت نے مختصر عرصے میں عملی اقدامات کرکے صورتحال بدلنے کا آغاز کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت 49 ہزار سرکاری اسکول موجود ہیں، جن میں سے 10 ہزار اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان تعلیمی معیار کا فرق ختم کرنا حکومت کی پالیسی ہے اور سرکاری اسکولوں کے بچوں کو بھی نجی اداروں جیسی جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں 300 نواز شریف اسکول آف ایمیننس قائم کیے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ان کا دائرہ کار ہر ضلع کے بعد ہر تحصیل تک بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ مستفید ہو سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان اداروں میں تعینات اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
طلبہ کے لیے خصوصی سہولتوں کا اعلان کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اگر کسی طالب علم کے پاس وسائل نہیں ہیں تو حکومت انہیں آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ فراہم کرے گی تاکہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ہونہار اسکالرشپ پروگرام بھی جاری رہے گا تاکہ کوئی بھی باصلاحیت طالب علم مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے کے طلبہ کے لیے ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکوں کو بائیک کے لیے 15 ہزار روپے ڈاؤن پیمنٹ کرنا ہوگی، جبکہ طالبات کے لیے کوئی ڈاؤن پیمنٹ نہیں ہوگی اگر والدین کے پاس وسائل نہیں تو ان کی بیٹی مریم نواز وسائل کی کمی پوری کرے گی۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانچ لاکھ بیٹیوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ بیرون ملک روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کو ٹریننگ کے ساتھ تین لاکھ روپے تک مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈز بلدیاتی انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کی وزیراعظم سے ذاتی مداخلت کی اپیل
مریم نواز نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ رکھا گیا ہے کیونکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو بہترین تعلیمی سہولتیں فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کا ہر شہری ان کی ذمہ داری ہے اور عوام نے جو اعتماد اور عزت دی ہے، وہ ان پر قرض ہے، جسے خدمت کے ذریعے ادا کریں گی۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور انہیں خطرناک مقامات پر نہ بھیجیں، جبکہ حکومت پنجاب نوجوان نسل کو معیاری تعلیم، جدید سہولتوں اور روشن مستقبل کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
