چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
خط کے متن کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈز کی آئینی مدت 11 اپریل 2026 کو ختم ہو چکی ہے جب کہ آئین اور قانون کے تحت مدت ختم ہونے کے 120 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات کا خواہاں ہے، تاہم انتخابات کے انعقاد کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے درکار قانونی اور انتظامی تقاضے ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے۔
خط میں وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت دیں تاکہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق مقررہ مدت میں کرائے جا سکیں۔
الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام 42 کنٹونمنٹ بورڈز کی حلقہ بندیاں 20 اپریل 2026 کو مکمل کر لی گئی تھیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کے اجرا کے لیے درکار رسمی تحریری درخواست تاحال موصول نہیں ہوئی۔ کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت وفاقی حکومت کی تحریری درخواست کے بغیر انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا جا سکتا۔

خط میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن وزارتِ دفاع کو اس حوالے سے متعدد یاد دہانیاں بھیج چکا ہے جب کہ وزارتِ دفاع متعلقہ سمری وزیراعظم آفس کو ارسال کر چکی ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی تحریری درخواست موصول ہوتے ہی کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
