کراچی: شہر قائد کی مقامی عدالت نے 7 سال بعد اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عاطف زمان کو دو مرتبہ سزائے موت کا حکم سنا دیا۔
عدالت نے عاطف زمان کو قتل کے جرم میں دو مرتبہ سزائے موت کے علاوہ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ جرمانے کی رقم مقتولین کے ورثا میں برابر تقسیم کی جائے گی، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید قید بھی بھگتنا ہو گی۔
عدالت نے مفرور شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی برقرار رکھے۔ عادل زمان سپریم کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد مفرور ہو گیا تھا اور اسے پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔
مقدمے کی سماعت کئی برس تک جاری رہی اس دوران استغاثہ نے عدالت میں فرانزک شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر ثبوت پیش کیے۔ فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔
قتل کا پس منظر
مذکورہ واقعہ 9 جولائی 2019 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے بخاری کمرشل میں پیش آیا تھا، جہاں معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان شہریوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے 3 افسران گرفتار
تحقیقات کے مطابق مرید عباس اور عاطف زمان کے درمیان کاروباری لین دین اور سرمایہ کاری کے معاملات پر تنازع پیدا ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں عاطف زمان نے دونوں افراد کو گولیاں مار دیں۔ واقعے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم وہ زندہ بچ گیا تھا۔
