ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اس ہفتے دوحہ میں امریکا کے ساتھ کوئی تکنیکی مذاکرات طے نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کے ساتھ مشاورت جاری ہے جس میں مفاہمتی وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اس وقت ہوگا جب ضروری شرائط پوری ہو جائیں گی۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس معاملے پر ثالث ممالک کے ذریعے بھی مشاورت جاری ہے، انہوں نے کہا کہ ایران اور عمانی ماہرین آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی طریقہ کار پر بات کریں گے، عمان تعاون کے لیے آمادہ ہے تاہم اگر عمان تیار نہ ہوا تو ایران خود اس عمل کو آگے بڑھائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے راستوں کی ازسرنو وضاحت کی جائے گی اور اس حوالے سے جلد تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اب تک مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عملدرآمد سے مطمئن نہیں۔ ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے بالواسطہ مذاکرات اسی وقت ہوں گے جب اہم شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ ترجیح مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد ہے جبکہ دوحہ کا مجوزہ دورہ منجمد فنڈز کے اجرا کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ دوحہ میں ایرانی وفد کی امریکی مذاکرات کاروں سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔
امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے پر متفق، حملے روکنے اور مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ مذاکرات اہم ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ثابت ہو جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر رضامند ہے۔
