آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے زندگی اور کام کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، مگر ایک نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اس سہولت کی قیمت انسانی ذہنی صلاحیتوں کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔
کارنیگی میلون یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آکسفورڈ یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف سامنے آیا کہ صرف 10 منٹ تک اے آئی چیٹ بوٹ کی مدد لینے سے انسان کی سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران رضاکاروں کو مختلف ذہنی ٹاسکس دیے گئے۔ کچھ افراد کو اے آئی اسسٹنٹ کی سہولت فراہم کی گئی جبکہ باقی افراد نے خود مسائل حل کیے۔ حیران کن طور پر دیکھا گیا کہ جن افراد نے اے آئی پر انحصار کیا، وہ اس وقت الجھن کا شکار ہو گئے جب ان سے اے آئی کی مدد واپس لے لی گئی۔
اے آئی کے باعث 80 لاکھ وائٹ کالر ملازمتیں خطرے میں
ماہرین کے مطابق ایسے افراد یا تو غلط جواب دینے لگے یا پھر مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہی چھوڑ بیٹھے۔ یعنی مسلسل اے آئی کی مدد لینے سے دماغ خود سوچنے کی عادت کھو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مقصد اے آئی کے استعمال کی مخالفت نہیں بلکہ اس کے “متوازن استعمال” پر زور دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی واقعی کام کو تیز اور بہتر بناتی ہے، لیکن اگر ہر سوال کا فوری جواب انسان کو ملنے لگے تو اس کی اپنی تجزیاتی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
محققین نے تجویز دی کہ مستقبل کے اے آئی ٹولز کو صرف جواب دینے والی مشین کے بجائے ایک “اچھے استاد” کی طرح ڈیزائن کیا جانا چاہیے، جو انسان کو سوچنے، سیکھنے اور خود نتیجہ اخذ کرنے کی ترغیب دے۔
سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت کر لیا
تحقیق میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اگر اے آئی کو صرف وضاحت یا رہنمائی کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان ہر کام کے لیے مکمل انحصار اے آئی پر کرنے لگے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نئی چیزیں سیکھنے کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے اگر انسان سوچنے کے بجائے فوراً اے آئی کی طرف رجوع کرنے لگے تو اس کے ذہنی ارتقا پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
