وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر تک تمام ٹرینیں عالمی معیار کے مطابق ہوں گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکھر میں بسیں بھی عالمی معیار کی ہیں ،خیبر پختونخوا کے لوگ سہولیات سے محروم ہیں ،خیبر پختونخوا کے لوگ کارکردگی میں مقابلہ کریں۔
پاکستان سے ایران ریلوے ٹریک کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے، حنیف عباسی
کوئٹہ میں پیپلز ٹرین چلانے جارہے ہیں ،افتتاح 2 سے 3 ماہ میں کریں گے ،سندھ حکومت اگر حوصلہ افزائی نہ کرتی تو یہ منصوبہ شروع نہ ہوتا۔
ستمبر میں کراچی سے روہڑی تک نئے ریلوے ٹریک کا افتتاح ہوگا ،کفایت شعاری مہم کے باوجود عوام کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا ہے ،کراچی اور لاہور کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
قبل ازیں وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، وزیرریلوے نے 30 جون تک تمام اہداف مکمل کرنے کی ہدایت کی، اجلاس میں 25 ہوپر ویگنز فوری سسٹم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر ریلوےحنیف عباسی نے کہا کہ فریٹ آپریشن مضبوط اور مستحکم بنایا جائےگا،وزیر ریلوے نے پاور وین کے پرزہ جات فوری منگوانے اور کوچز فعال بنانے کی ہدایت کی۔
وزیرِ اعظم نے ریلوے مسافروں کے لئے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا
وزیر ریلوے نے بین الاقوامی تاخیر کا شکار پرزہ جات ایئر کارگو کے ذریعے منگوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ 30جون سے قبل ریلوے اسٹیشنز پر سولر سسٹم کی تنصیب مکمل کی جائےگی۔
سیف ،اسمارٹ اسٹیشنز اور جدید کنٹرول دفاترکے قیام سے ریلوے ڈیجیٹائز ہوگا،ٹرینوں کی وقت کی پابندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،31دسمبر تک دو نئی انوویشنز متعارف کرینگے۔
